طلال چوہدری نے عدلیہ کے خلاف توہین آمیز تقریر پانامہ فیصلہ کے بعد کی

سپریم کورٹ نے لیگی رہنما طلال چوہدری توہین عدالت انٹرا کورٹ اپیل کا فیصلہ جاری کر دیا طلال چوہدری کے توہین عدالت کے الفاظ انتہائی سنگین ہیں، توہین عدالت کو جرم ختم کرنے کیلئے معافی کافی نہیں، عدالتی فیصلہ

بدھ مارچ 21:18

طلال چوہدری نے عدلیہ کے خلاف توہین آمیز تقریر پانامہ فیصلہ کے بعد ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 مارچ2019ء) سپریم کورٹ نے لیگی رہنما طلال چوہدری توہین عدالت انٹرا کورٹ اپیل کا فیصلہ جاری کر دیا۔جسٹس سجاد علی شاہ نے 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا ۔سپریم کورٹ کے تحریری فیصلہ میں نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس کا بھی تذکرہ کیا اور کہاکہ طلال چوہدری نے عدلیہ کے خلاف توہین آمیز تقریر پانامہ فیصلہ کے بعد کی۔

فیصلہ کے مطابق سپریم کورٹ نے پانامہ فیصلہ میں نواز شریف کو غیر صادق غیر امین قرار دیکر نا اہل قرار دیا۔فیصلہ کے مطابق عدالتی فیصلہ کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رہنمائوں نے چیف جسٹس اور ججز کی تضحیک کی مہم شروع کی ۔سپریم کورٹ کے مطابق عدلیہ کے خلاف مہم کا مقصد نواز شریف سے وفاداری ثابت کرنا تھا ۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ کے مطابق طلال چوہدری نے شعلہ بیان مقرر کے انداز میں عوامی جلسہ میں عدلیہ کی آزادی اور ساکھ پر حملہ کیا ۔

سپریم کورٹ کے مطابق طلال چوہدری نے نواز شریف کی حمایت میں عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو توڑنے کی کوشش کی۔سپریم کورٹ کے مطابق طلال چوہدری کی جانب سے معاملہ پر مخلصانہ معافی اور ندامت کا اظہار نہیں کیا گیا ۔سپریم کورٹ کے مطابق طلال چوہدری کے توہین عدالت کے الفاظ انتہائی سنگین ہیں، توہین عدالت کو جرم ختم کرنے کیلئے معافی کافی نہیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ طلال چوہدری کی معافی عدالتی پیرامیٹر ز کے مطابق نہیں اس لیے مسترد کی جاتی ہے ۔سپریم کورٹ نے کہاکہ طلال چوہدری کی انٹرا کورٹ اپیل کا کوئی میرٹ نہیں،خارج کی جاتی ہے ۔