جیا پرادا کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال پر اعظم خان کے خلاف مقدمہ درج

سماج وادی پارٹی کے رہنماء اعظم خان نے مدمقابل سابق اداکارہ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی تھی

پیر اپریل 15:33

جیا پرادا کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال پر اعظم خان کے خلاف مقدمہ درج
نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اپریل2019ء) بھارت کے جن علاقوں میں ابھی انتخابات کے لیے ووٹنگ نہیں ہوئی وہاں انتخابی مہم بھی جاری ہے اور اسی سلسلے میں بھارتی سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف قابل اعتراض بیانات بھی دے رہے ہیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق قریاست اتر پردیش کے شہر رامپور سے لوک سبھا کے انتخابات کے لیے میدان میں اترنے والے سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان نے بھی گزشتہ روز انتخابی مہم کے دوران ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حریف امیدوار جیا پرادا کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی۔

اگرچہ اعظم خان اسے سے قبل جیا پرادا کیخلاف باتیں کر چکے ہیں اور جیا پرادا نے ان پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد تک کیا تھا۔تاہم اس بار اعظم خان کو جیا پرادا کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنا مہنگا پڑ گیا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کردیا گیا۔

(جاری ہے)

اعظم خان نے ایک روز قبل اپنے حلقے میں انتخابی جلسے کے دوران جیا پرادا کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کی اور ان کے زیر جامہ پر بات کرتے ہوئے نازیبا زبان استعمال کی۔

اعظم خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہی انہیں 17 سال قبل رامپور میں متعارف کرایا تھا۔سماج وادی پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہی انہیں سیاست سکھائی اور وہ انہیں ابتدائی 17 میں ہی سمجھ گئے تھے کہ ان کے زیر جامہ کا رنگ کیسا ہی اعظم خان نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ انہیں کیوں اسے سمجھنے میں 17 برس لگی اعظم خان کی جانب سے جیا پرادا کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر مقدمہ دائر کردیا گیا۔دوسری جانب بھارت کی خواتین سے متعلق قومی کمیشن نے بھی اعظم خان کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خطاب کی شکایت الیکشن کمیشن کو کردی ہے۔