محکمہ پولیس میں اصلاحات کا مقصد ادارے کوبااختیار اور جوابدہ بنانا ہے

کابینہ اجلاس میں گلگت بلتستان پولیس ایکٹ 2019 پیش کیا جائے گا، وزیر اعلی گلگت بلتستان کی محکمہ پولیس کی جانب سے ڈرافٹ گلگت بلتستان پولیس ایکٹ 2019 اور سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے موقع پر گفتگو

بدھ اپریل 13:21

محکمہ پولیس میں اصلاحات کا مقصد ادارے کوبااختیار اور جوابدہ بنانا ..
گلگت (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 اپریل2019ء) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ محکمہ پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے محکمہ پولیس میں اصلاحات کی جارہی ہیں جس کا مقصد ادارے کوبااختیار اور جوابدہ بنانا ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے کابینہ اجلاس میں گلگت بلتستان پولیس ایکٹ 2019 پیش کیا جائے گا، گلگت بلتستان پولیس ایکٹ 2019 سے تھانہ کلچر میں واضع تبدیلی آئے گی، اداروں کی بہتری کیلئے حکومت نے اصلاحات متعارف کرائی ہیں جس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، اداروں کے مابین بہتر روابط سے اداروں کی کارکردگی میں مثبت تبدیلی آئی ہے، اصلاحات سے پولیس کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی اور عوام کو انصاف کی فراہمی میں مدد ملے گی، انوسٹی گیشن کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے ڈرافٹ گلگت بلتستان پولیس ایکٹ 2019 اور سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے حوالے سے محکمہ پولیس کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ ڈرافٹ گلگت بلتستان پولیس ایکٹ 2019 کو محکمہ داخلہ اور قانون سے رائے لینے کے بعد منظوری کیلئے کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ ہمارا مقصد نظام میں بہتری لاناہے۔ نیک نیتی سے علاقے اور عوام کی خدمت کیلئے کام کررہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے اس موقع پر بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے پر عائد پابندی پر عملدرآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے محکمہ پولیس کو ہدایت کی کہ ہمیں سب سے زیادہ انسانی جانوں کی فکر ہے لہٰذا تمام موٹر سائیکل چلانے والوں کو ہیلمٹ کا استعمال یقینی بنانے کیلئے سخت اقدامات کئے جائیں۔

بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائیکل چلانے والوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مین شاہراہوں پر پیٹرولنگ کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ سیف سٹی پروجیکٹ کے ملازمین کو فوری طور پر تنخواہوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور دیگر اضلاع میں بھی سیف سٹی پروجیکٹ کی وسعت کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

متعلقہ عنوان :