ٹیکس کے دائرے میں نہ آنے اوربے نامی اثاثے رکھنے پر 5 سال قید ہوگی

گھر سمیت کوئی بھی اثاثہ کسی اور کے نام نہیں رکھا جا سکے گا

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات مئی 06:51

ٹیکس کے دائرے میں نہ آنے اوربے نامی اثاثے رکھنے پر 5 سال قید ہوگی
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2019ء)   موجودہ حکومت کی ایمنسٹی اسکیم کو منظور کرتے ہوئے صدر پاکستان عارف علوی نے دستخط کر کے ملک بھر میں نافذ کر دیا ہے۔حکومت کی اس اسکیم کو مختلف حلقوں سے تعریف و تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اگرچہ سبھی اپوزیشن جماعتیں اسے سابقہ حکومتوں کی ایمنسٹی اسکیموں سے مختلف نہیں کہہ رہیں جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ اس اسکیم سے اربوں روپے کے اثاثے ٹیکس نیٹ میں آ جائیں گے اور بے نامی جائیدادیں بھی سب کے سامنے آ جائیں گی۔

اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے اعزازی چیئرمین شبرزیدی نے کہا ہے کہ گھر سمیت اپنے اثاثوں کی ملکیت کسی اور کے نام پر رکھنا بے نامی ہے، بے نامی اثاثے رکھنے پر 5 سال قید ہوسکتی ہے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کے دوران شبر زیدی نے کہا کہ بڑی کمپنیوں سمیت پاکستان کے 300 بڑے ٹیکس دہندگان ملک کے مجموعی ٹیکس محاصل کا 80 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان کاکہنا تھاکہ تنخواہ دار طبقے کا حصہ پانچ سے چھ فی صد ہے۔ اعزازی چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار ارب روپے سے اوپر رکھا ہے۔ اثاثوں کو ڈکلیئر کرنے کے لیے صدر مملکت عارف علوی نے اثاثہ جات ظاہر کرنے پر ٹیکس ایمنسٹی کا آرڈیننس جاری کر دیا ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگیا ہے۔ اس اسکیم سے 30 جون 2019 تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے تاہم 30 جون 2020 تک بھی جرمانہ ادا کر کے کالا دھن سفید کیا جا سکے گا۔

اسکیم کا اطلاق 30 جون 2018 تک کی غیر اعلانیہ سیلز، بے نامی اثاثہ جات یا اخراجات پر ہوگا۔ جائیداد یا اثاثوں سے متعلق زیر التوا مقدمات ، ہیرے جواہرات، سونے اور پرائز بانڈز پر اسکیم کا اطلاق نہیں ہوگا۔اندرون ملک غیر منقولہ جائیداد پر ایف بی آر کے مقررہ ریٹ سے ڈیڑھ گنا زیادہ قیمت پر 1.5 فیصد ٹیکس دینا ہوگا جبکہ بیرون ملک منقولہ جائیداد پر 6 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں،کتنے لوگ اس اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے یہ وقت آنے پر پتا چلے گا۔