پاکستان کے نہری نظام میں سالانہ دستیاب 142ملین ایکڑ فٹ پانی میں سے 36ملین ایکڑ سمندر میںگر کر جبکہ 49ملین ایکڑ فٹ نہروں کی ناقص منصوبہ بندی سے ضائع ہو رہاہے ،نئے آبی ذخائر کی تعمیر کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں ،ترجمان پاکستان کسان بورڈ

جمعرات جون 14:22

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 جون2019ء) پاکستان کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے جس کی بقاء کیلئے پانی بنیادی حیثیت کا حامل ہے لیکن یہ امر انتہائی تشویش ناک ہے کہ پاکستان کے نہری نظام میں سالانہ دستیاب 142ملین ایکڑ فٹ پانی میں سے 36ملین ایکڑفٹ پانی بحیرہ عرب میں گر کر جبکہ 49ملین ایکڑ فٹ پانی راجباہوں ، کھالوں کی عدم نگہداشت اور نہروں کی ناقص منصوبہ بندی سے ضائع ہو رہاہے نیز مذکورہ پانی کو ذخٰیرہ کر کے قابل استعمال بنانے کیلئے نئے آبی ذخائر کی تعمیر کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ۔

پاکستان کسان بورڈ کے ترجمان نے کہاکہ پاکستان میں پانی کی کمی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں گذشتہ چند سالوں کے دوران پانی کی فی کس دستیابی 5650 مکعب میٹر سے کم ہو کر 1200 مکعب میڑ رہ گئی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے بتایاکہ پنجاب میں نہری نظام سے 56ملین ایکڑ فٹ پانی مہیا ہوتا ہے جس میں سے 12 ملین ایکڑ فٹ پانی نہروں ، کھالوں ، راجباہوں کے ذریعے ضائع ہو جاتا ہے اس طرح 58110کھالوں کیلئے 44.8ملین ایکڑ فٹ پانی میسر ہے جو 40.61ملین ایکڑ کاشتہ رقبہ کی آبپاشی کیلئے ناکافی ہے۔

انہوںنے کہاکہ پنجاب میں پانی کی کمی کو پورا کر نے کیلئے ہزاروں کی تعداد میںنئے ٹیوب ویلوں کی تنصیب کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوںنے پانی کا ضیاع روکنے کیلئے زیادہ سے زیادہ کھالے پختہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ عنوان :