بیوی پر کوئی تشدد نہیں کیا۔ اداکار محسن عباس

معروف گلوکار و اداکار محسن عباس نے پولیس کو بتایا ہے کہ انہوں نے بیوی پر کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا

Kamran Haider کامران حیدر اتوار جولائی 19:51

بیوی پر کوئی تشدد نہیں کیا۔ اداکار محسن عباس
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جولائی2019ء) بیوی پر کوئی تشدد نہیں کیا۔ معروف گلوکار و اداکار محسن عباس نے پولیس کو بتایا ہے کہ انہوں نے بیوی پر کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا۔ تفصیلات کے مطابق گلوکار و اداکار محسن عباس نے اپنی اہلیہ کی طرف سے لگائے گئے تشدد کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے پولیس کو بیان دیا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ پر کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق خاتون فاطمہ نے اپنے شوہر محسن عباس کی جانب سے تشدد کرنے سے متعلق درخواست جمع کروائی تاہم ابھی تک خاتون میڈیکل کے لیے پولیس اسٹیشن تشریف نہیں لائیں۔ ایس پی کینٹ کا کہنا ہے کہ تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا جب کہ محسن عباس نے بیان میں کہا ہے کہ ان پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں، محسن عباس نے اپنے وکیل کے ذریعے سے بیان بھیجا ہے اور اب تک دونوں فریقین میں سے کوئی بھی تھانے نہیں آیا۔

(جاری ہے)


واضح رہے کہ محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں اپنے شوہر کے مبینہ ظلم کی داستان بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر نے نہ صرف انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ذہنی ٹارچر بھی کیا اوراب وہ یہ ظلم برداشت کرتے کرتے تھک گئی ہیں۔ انہوں نے اپنی کہانی شروع کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں فاطمہ ہوں، محسن عباس حیدر کی اہلیہ اور یہ میری کہانی ہے، 26 نومبر 2018 کو مجھے پتا چلا کے میرا شوہر مجھے دھوکہ دے رہا ہے، جب میں نے جواب مانگا تو بجائے شرمندہ ہونے کے اس نے مجھے مارنا پیٹنا شروع کردیا، اس وقت میں حاملہ تھی، وہ مجھے بالوں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹتا رہا، وہ لاتے مارتا، اس نے منہ پر مکے مارنے کے ساتھ دیوار کی جانب دھکا بھی دیا‘۔

فاطمہ سہیل نے لکھا ہے کہ انہیں انکے شوہر نے حیوانوں کی طرح مارا پیٹا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جو انکا نگراں تھااس نے انہیں ڈرایا دھمکایا جس پر انہوں نے اپنے کسی گھر والے کو بلانے کے بجائے دوست سے رابطہ کیا جس کے بعد انہیں فوری ہسپتال لے جایا گیا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر نے پہلے تو انکا طبی معائنہ کرنے سے انکار کر دیا کیوں کہ یہ پولیس کیس تھا لیکنانہیں کچھ وقت چاہیے تھا کیونکہ وہ اس حالت میں نہیں تھیں کہ فوری ایف آئی آر درج نہیں کراسکتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’میرا الٹرا ساوٴنڈ ہوا تو مجھے اس بات کی تسلی ہوئی کہ میرا بچہ محفوظ تھا، میں نہیں جانتی کہ اب اسے سماجی دباوٴ کہیں گے یا پھر میری اپنی ہمت، میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے بچے کی خاطر اس شادی کو پھر ایک موقع دوں گی‘۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ اس کے بعد 20 مئی 2019 کو نکاا خوبصورت بیٹا پیدا ہوااور بچے کی پیدائش سرجری سے ہوئی تھی کیوں کہ ان کی ڈیلیوری میں کچھ پیچیدگیاں تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ لاہور میں ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں تھیں تو انکا شوہر کراچی میں ابھرتی ہوئی ماڈل نازش جہانگیر جو انکی گرل فرینڈ ہے کے ساتھ سو رہا تھا‘۔ فاطمہ سہیل نے بتایا کہ اس ماڈل نے بعدازاں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کی پوسٹس شیئر کیں، تاکہ عوام کی توجہ حاصل کرسکے، اس موقع پر فاطمہ کو انکے خاندان والے تو انکے ساتھ کھڑے رہے لیکن انکے ساتھی نے انہیں سپورٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

فاطمی سہیل نے کہا کہ محسن ڈیلیوری کے 2 روز بعد صرف اس لیے انہیں ملنے آیا تاکہ وہ اپنے بچے کے ساتھ تصاویر لے کر پھر عوام کی توجہ حاصل کرسکے، اسے اپنے بیٹے کی خیریت جاننے کی بھی پرواہ نہیں تھی اور یہ سارا ڈرامہ صرف لوگوں کی تعریف بٹورنے کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 17 جولائی کو وہ محسن عباس حیدرکے گھر گئی جہاں انہوں نے محسن سے بیٹے کی ذمہ داری اٹھانے کا مطالبہ کیا، اس وقت محسن نے انہیں دوبارہ مارنا پیٹنا شروع کردیا، جبکہ اپنے بیٹے کے لیے کچھ بھی کرنے سے انکار کردیا۔

فاطمہ نے لکھا ہے کہ ’لیکن اب بہت ہوگیا، میں یہ سب یہاں پوسٹ کررہی ہوں، تاکہ میں لڑکیوں کو یہ بتاسکوں کہ وہ میرا حال جان سکیں، معاشرے کا دباوٴ ہو یا نہیں، ایک حد ایسی ہونی چاہیے جہاں آپ کوئی ظلم نہ برداشت کریں، یہ ہمارے لیے کوئی نہیں کرسکتا، ہمیں خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔