99 فیصد افراد عدالتی فیصلے پڑھے بغیر تجزیہ دیتے ہیں: چیف جسٹس

وہ لوگ تجزیے دے رہے ہوتے ہیں جن کا آئین اور قانون سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، مجھے فکر ہے کہ مستقبل کا مورخ کیا لکھے گا: آصف سعید کھوسہ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ ہفتہ ستمبر 22:54

99 فیصد افراد عدالتی فیصلے پڑھے بغیر تجزیہ دیتے ہیں: چیف جسٹس
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 ستمبر2019ء) چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ 99 فیصد افراد عدالتی فیصلے پڑھے بغیر تجزیہ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ تجزیے دے رہے ہوتے ہیں جن کا آئین اور قانون سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، مجھے فکر ہے کہ مستقبل کا مورخ کیا لکھے گا۔ آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تاریخ کی خوبصورتی یہ ہے کہ اسے اپنے انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے،جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں تاریخ بن نہیں رہی بلکہ حقائق اجاگرہورہے ہیں،تاریخ دان ہی ہمارے موجودہ دور کے بارے میں بتائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میرا عہدہ موجودہ صورتحال پر بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا،میں جانتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں بہترین وکلاء موجود ہیں،مگرتاریخ دان بتائیں گے کہ آج کے وکلاء بہترین دلائل دیتے تھے،ان کاانداز بیاں اچھا تھایا وہ ہاتھ اورککوں سے دلائل دینا جانتے تھے،چیف جسٹس نے کہا کہ اپنے رویوں کو تبدیل کئے بغیر بہتری نہیں لائی جاسکتی،بہتری لانے کیلئے ادارے، رویے اورسوچ کو ایک پیج پرلانا ہوگا،اسی فارمولے کے تحت پاکستانی عدلیہ نے مقدمات نمٹانے کا ریکارڈ قائم کیا،سپیشل فوجداری ٹرائل عدالتوں نے ایک سو سینتیس دنوں میں 36000 ٹرائل نمٹادئیے،نئے قوانین، اضافی اخراجات، موجودہ انفراسٹرکچر کے ساتھ ہی اہداف مکمل کرنا خوش آئند ہے، تقریب سے ایس ایم ظفرکے علاوہ، دانشوروں، سیاست دانوں، صحافیوں اوردیگر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں نے بھی اظہار خیال کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پہلے قانون کے طلبہ کو نامور وکلاء پڑھاتے تھے لیکن اب سالِ دوم کا طالبِ علم سال اوّل کے طالبِ علم کو پڑھا رہا ہے، تعلیم کا معیار کیا ہے؟ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ چیزوں کو ٹھیک کیا جائے تو اچھے نتائج مل سکتے ہیں، ہم نے اپنے گھر کو ٹھیک کیا ہے، جس پر ہمیں کامیابی ملی ہے۔