دو حافظ قرآن بھائیوں کے قتل معاملے کی سماعت

میں دو افراد قتل جبکہ دو زخمی ہوئے جس پر عدالت نے سوموٹو لیا پولیس نے پہلی ایف آئی آر میں چار زخمیوں کا ذکر کیا جبکہ سوموٹو کے بعد پولیس نے دوسری ایف آئی آر درج کر لی جس میں دو زخمیوں اور دو مقتولین کا ذکر ہی نہیں۔ سپریم کورٹ نوٹس لے تو یہ نتیجہ نکلتا ہی ،چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کے ریمارکس

بدھ ستمبر 22:36

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 18 ستمبر2019ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے دو حافظ قرآن بھائیوں کے قتل معاملے پر عدالت عظمیٰ کے ازخود نوٹس کی سماعت کے موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ 2010 میں دو افراد قتل جبکہ دو زخمی ہوئے جس پر عدالت نے سوموٹو لیا۔ پولیس نے پہلی ایف آئی آر میں چار زخمیوں کا ذکر کیا جبکہ سوموٹو کے بعد پولیس نے دوسری ایف آئی آر درج کر لی جس میں دو زخمیوں اور دو مقتولین کا ذکر ہی نہیں۔

سپریم کورٹ نوٹس لے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے۔ سپریم کورٹ موقع پر موجود تو نہیں تھی تو اسے کیسے پتہ ہو سکتا ہے کہ واقعے میں کیا ہوا۔ سزا دینے کااختیار صرف سٹیٹ کے پاس ہے اگر لوگوں نے ڈاکوئوں کو پکڑ لیا تھا پھر بھی سزا دینے کا اختیار لوگوں کے پاس نہیں۔

(جاری ہے)

معاشرے کو تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے سزائے موت کے سات ملزمان کی سزا کو دس سال قید جبکہ عمر قید کی سزا پانے والے پانچ ملزمان کی سزا بھی دس کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

معاملہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت ملزمان کے وکیل نے عدالت میں موقف اپنایا کہ اس میں وجہ عناد ثابت نہیں ہوئی۔ پوسٹمارٹم میں بھی نامعلوم افراد لکھا گیا ہے۔ میڈیکل رپورٹ میں بھی نامعلوم افراد درج ہے۔ اگر ملزمان پر جرم ثابت ہو تو سزا بنتی ہے۔ عدالت نے سات ملزمان کی سزائے موت کو دس سال جبکہ پانچ ملزمان کی عمر قید کو دس سال میں تبدیل کرتے ہوئے اپیلیں نمٹا دی ہیں۔ ۔