308 ایکڑزمین کی غیر قانونی فروخت کا معاملہ،چیف جسٹس نے نیب کو 8 ہفتوں میں ملزمان کے خلاف انکوائری مکمل کرنے کا حکم دے دیا

جمعرات ستمبر 19:53

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 ستمبر2019ء) سندھ ہائیکورٹ میں حیدرآباد میں رفاعی مقاصد کے لیے حاصل کی گئی 308 ایکڑزمین کی غیر قانونی فروخت کا معاملہ،چیف جسٹس نے نیب کو 8 ہفتوں میں ملزمان کے خلاف انکوائری مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

(جاری ہے)

سندھ ہائی کو رٹ میں دوران سماعت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ 8 ہفتوں کے بعد ایک دن کی بھی مہلت نہیں دیں گے،غریبوں کا مفت علاج کرنے کے لیے سرکاری زمین حاصل کرکے فروخت کردیا گیا،کہا گیا ہے اسپتال بنا کر غریبوں کا مفت علاج کریں گے، ملک اور عوام کے ساتھ زیادتی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے،کراچی رفاعی پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ، قبضے اور فروخت میں تو سب کا رول ماڈل رہاہے،ملزمان نے تو سیٹھوں والا کام کیا، چیف جسٹس نے ملزم شیخ ظاہر کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ سرکاری زمین کے پیسے واپس دے رہے ہو یا نہیں، ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایک کروڑ روپے واپس کردیے، عدالت کا کہنا تھا کہ سرکاری زمین کی فروخت کا سارا پیسہ واپس کرو، نیب کا الزام ہے کہ ملزمان عدیل بیگ پہنوراور عبدالغفار کو اسپتال بنانے کے لیے حیدر آباد میں 308 ایکڑزمین الاٹ کی گئی تھی،ملزمان نے اپنے اٹارنی شیخ ظاہر کے زریعے 25 ایکڑزمین فروخت کرکے سوسائٹی کی تعمیر شروع کردی۔