نیویارک میں حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں حزب اللہ کا کارکن گرفتار

لبنانی الیکسی صعب نے 2008ء میں ایران نواز لبنانی حزب اللہ سے عسکری تربیت حاصل کی تھی،امریکی استغاثہ

جمعہ ستمبر 23:50

نیویارک میں حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں حزب اللہ کا کارکن گرفتار
نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 ستمبر2019ء) امریکی محکمہ انصاف نے بتایا ہے کہ پولیس نے نیو جرسی ریاست سے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے وابستہ ایک شدت پسند کو حراست میں لیا ہے جس پر نیویارک میں حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق استغاثہ نے اعلان کیا کہ 42 سالہ لبنانی الیکسی صعب نے 2008ئ میں ایران نواز لبنانی حزب اللہ سے عسکری تربیت حاصل کی تھی۔

امریکا اس تنظیم کو 1997 کے بعد سے ہی ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر ڈیل کررہا ہے۔حزب اللہ کی غیر ملکی ا?پریشن شاخ جو بلغاریہ میں اسرائیلی سیاحوں پرحملوں میں ملوث بتائی جاتی ہے کو الیکسی صعب نے امریکا میں اہم اہداف کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔ 2000ئ میں امریکا میں ا?باد ہونے اور باقاعدگی سے تربیت کے لیے لبنان کا سفر کرنے کے بعد ،صعب نے حزب اللہ کو نیو یارک میں نمایاں مقامات ، خاص طور پر اقوام متحدہ کے صدر دفتر ، ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ ، ٹائمز اسکوائر ، پل ، سرنگوں اور ہوائی اڈوں کے بارے میں تفصیلی انٹلیجنس معلومات مہیا کی تھیں۔

(جاری ہے)

2005ئ میں اس نے ایک دوسرے ملک کا کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ایک مشتبہ اسرائیلی جاسوس کو قتل کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔اس پرالزام ہے کہ اس نے سنہ 2012ئ ایک فرضی شادی کی تاکہ وہ اپنی ساتھی کو امریکا لانے کے بعد اسے بھی امریکی شہریت دلوا سکے۔مین ہٹن کے وفاقی پراسیکیوٹر جیفری برمن نے کہا 'ملزم امریکا میں ممکنہ اہداف کی تلاش میں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صعب امریکی شہریت حاصل کرنے کے باوجود کئی دہائیوں سے سیکڑوں افراد کو ہلاک کرنے اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی ذمہ دار دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کا وفادار ہے۔

الیکسی صعب پر نو الزامات عائد کیے گئے۔ ان الزامات میں ایک دہشت گرد تنظیم کی مدد کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔دہشت گرد تننظیم سے معاونت پر 20 سال اور دہشت گردانہ مقاصد کے لیے جعلی شادی کی کوشش پر 25 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔