نمرتا کچھ وقت سے کسی مسئلے کو لے کر پریشان تھی

وہ روتی تھی اور کہتی تھی کہ مجھے ہمت چاہئیے کہ میں اس مسئلے سے نکلوں، بہت پوچھنے پر بھی اُس نے مسئلے کا نہیں بتایا۔ پروفیسر

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ ستمبر 11:42

نمرتا کچھ وقت سے کسی مسئلے کو لے کر پریشان تھی
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 ستمبر 2019ء) : نمرتا کیس میں پولیس نے کالج کے پروفیسر کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نمرتا کیس میں پولیس نے نمرتا کے دو ہم جماعتوں سمیت 32 افراد کے بیان قلمبند کر لئے ہیں۔ کالج کے سینیئر پروفیسر امر لعل نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں کہا کہ نمرتا کچھ وقت سے کسی مسئلے کو لے کر پریشان تھی، وہ کئی بار پروفیسر امر لعل کے پاس آئی، وہ روئی اور پریشانی کا شکار ہونے کا بتایا۔

پروفیسر امر لعل نے بتایا کہ نمرتا روتی تھی اور کہتی تھی کہ مجھے ہمت چاہئیے کہ میں اس مسئلے سے نکلوں، بہت پوچھنے پر بھی مسئلہ نہیں بتایا جس پر میں نے نمرتا کو یوگا اور ورزش سانگس سننے کا مشورہ دیا۔ اس کے علاوہ پولیس کی زیر حراست نمرتا کے کلاس فیلو مہران ابڑو نے نمرتا سے محبت کا اعتراف کر لیا۔

(جاری ہے)

مہران ابڑو نے پولیس کو دئے گئے بیان میں بتایا کہ نمرتا مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی۔

اس کے علاوہ پولیس نمرتا اور مہران کے درمیان تعلق پر وسیم میمن نامی شخص کی دلچسپی پر بھی تحقیق کررہی ہے۔ دوسری جانب ایس ایس پی مسعود بنگش نے نمرتا کے لواحقین سے متعدد بار رابطہ کیا اور انہیں واقعے کا مقدمہ درج کروانے کا کہا تاہم نمرتا کے ورثاء جامعہ بے نظیر کی وائس چانسلر کو مقدمے میں نامزد کرنے پر بضد ہیں جب کہ نمرتا کے لواحقین کو ہندو کمیونٹی کے معززین نے مشورہ دیا کہ ادارے کی سربراہ کو مقدمے میں نامزد کرنے سے کیس کمزور ہوگا۔

واضح رہے کہ 16 ستمبر کو آصفہ بی بی ڈینٹل کالج لاڑکانہ کے ہاسٹل سے نمرتا چندانی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔اس واقعہ کو خود کُشی قرار دیا جا رہا تھا لیکن نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال نے اس واقعہ کو قتل قرار دیا۔ جس پر سندھ حکومت نے نمرتا چندانی کی ہلاکت کی وجوہات جاننے کے لیے جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا تھا۔