بریسٹ کینسر بارے آگہی کے لئے پی اے ایف کمپلیکس اسلام آباد میں واک، خاتون اول بیگم ثمینہ علوی کی شرکت

بریسٹ کینسر سے متعلق آگہی کی کمی پاکستانی خواتین کی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے، بریسٹ کینسر بارے بنیادی معلومات خواتین تک پہنچانے کے لیے ٹیلی ویژن، ریڈیو اور سوشل میڈیا بھرپور کر دار ادا کر سکتا ہے، خاتون اول بیگم ثمینہ علوی

بدھ اکتوبر 20:10

بریسٹ کینسر بارے آگہی کے لئے پی اے ایف کمپلیکس اسلام آباد میں واک، ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 اکتوبر2019ء) پی اے ایف ہسپتا ل کے زیر اہتمام بریسٹ کینسر سے متعلق عوام کی آگہی کے لئے پی اے ایف کمپلیکس اسلام آباد میں ایک واک کا انعقاد کیا گیا۔ خاتون اول بیگم ثمینہ علوی نے بھی اس واک میں شرکت کی۔ ان کی آمد پر بیگم تزئین مجاہد، صدر پاکستان ایئر فورس وویمن ایسوسی ایشن نے ان کا استقبال کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے خاتون اول نے کہا کہ بریسٹ کینسر سے متعلق آگہی کی کمی پاکستانی خواتین کی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس بیماری کے بارے میں کھل کر بات کی جائے اور اس کے تدارک کے لیے جامع اقدامات کئے جائیں۔ اس بیماری کے حوالے سے میڈیا کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر کے بارے میں مفاد عامہ کے پیغامات کے ذریعے بنیادی معلومات خواتین تک پہنچانے کے لیے ٹیلی ویژن، ریڈیو اور سوشل میڈیا ایک بھرپور کر دار ادا کر سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صرف میڈیا کے مؤثر استعمال سے ہی اس قابل علاج بیماری کے بارے میں آگہی دی جا سکتی ہے اور اس بیماری کے بارے میں عوام میں پائے جانے والے خدشات کو دور کیاجا سکتا ہے۔ انہوں نے پی اے ایف ہسپتال، اسلام آباد کی انتظامیہ کو اس کامیاب واک کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس بیماری کے تدارک اور آگہی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا۔

قبل ازیں بیگم تزئین مجاہد نے استقبالیہ خطاب میں اس واک کے مقاصد کو اجاگر کیا۔ ڈاکٹر شمسہ رضوان نے اپنے لیکچر میں اس بات پر زور دیا کہ بروقت تشخیص سے اس قابل علاج بیماری سے نجات مل سکتی ہے۔ بعد ازاں بریسٹ کینسر کی بیماری سے صحت یاب ہونے والی ایک مریضہ نے بھی وہاں موجود حاضرین کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔اس واک کا مقصد لوگوں میں بریسٹ کینسر کے باقاعدہ معائنے، جلد تشخیص اور بروقت علاج کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ نوجوان لڑکیوں، خواتین، ڈاکٹرز، ہسپتال کے عملے، اساتذہ اور طلبہ کی کثیر تعداد نے اس واک میں حصہ لیا۔واک کے شرکاء نے پلے کارڈز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن میں بریسٹ کینسر کے مریضوں کو اس بیماری کا مقابلہ کرنے کی تلقین کی گئی تھی۔