ترمیم شدہ خبر

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت28اکتوبر تک ملتوی کردی

پیر اکتوبر 23:25

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 اکتوبر2019ء) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت10رکنی فل کورٹ بینچ کے ایک رکن جسٹس مظہر عالم میاں خیل کی عدم دستیابی کی بناء پر28اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔ پیر کوجسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس قاضی امین احمد پر مشتمل9 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی توفل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک سے کہا کہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل کے خاندان میں فوتگی کے باعث وہ فی الحال دستیاب نہیں ہیں اس لئے ان کی عدم دستیابی کے باعث یہ بینچ تحلیل کرتے ہوئے نئے بنچ کی تشکیل کے لئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

جس پر فاضل وکیل نے استدعا کی کہ اس مقدمہ کی سماعت کے لیے فل کورٹ بنچ ہی تشکیل دیا جائے۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بینچ کی تشکیل چیف جسٹس کی صوابدید ہوتی ہے تاہم کوشش کریں گے کہ اسی عدالتی ہفتے کے دوران نیا بنچ بھی تشکیل پا جائے۔ بعد ازاں فاضل عدالت نے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا نے کا حکم قلمبند کروایا تاہم رات کو سپریم کورٹ کی جانب سے نظر ثانی شدہ تحریر ی فیصلہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق فل کورٹ بنچ کے ر کن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل کی عدم دستیابی کے باعث کیس کی سماعت نہیں ہوسکی ہے تاہم عدالت کو بتایا گیا ہے کہ وہ اگلے عدالتی ہفتے کے دوران دستیاب ہوں گے ، اس لئے اس کیس کی مزید سماعت 28اکتوبر تک ملتوی کی جاتی ہے۔