سندھ ہائی کورٹ نے بیٹی سے زیادتی کے جرم میں ملوث والد کو بری کر دیا

لڑکی اور اس کے باپ کا ڈی این اے ٹیسٹ منفی آیا، لڑکی نے ابارشن رپورٹ بھی کیس کے ساتھ منسلک نہیں کی تھی

جمعرات نومبر 21:58

سندھ ہائی کورٹ نے بیٹی سے زیادتی کے جرم میں ملوث والد کو بری کر دیا
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 نومبر2019ء) عدالت نے ڈی این اے رپورٹ میں بیٹی سے زیادتی کا جرم ثابت نہ ہونے پر والد کو بری کردیاہے۔ سندھ ہائیکورٹ میں بیٹی سے زیادتی کے جرم میں گرفتار والد کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ ہائیکورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے ملزم محمد سلیم کو باعزت بری کرنے اور جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ملزم کے خلاف24نومبر2017کو تھانہ سائٹ سپر ہائی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

ملزم محمد سلیم پر اپنی بیٹی سے زیادتی کا الزام تھا اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر نے ملزم کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ اس سزا کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔بیٹی سحر فاطمہ نے الزام عائد کیا تھا کہ باپ 4 سال تک زیادتی کا نشانہ بناتا رہا جس کی وجہ سے دو بار حاملہ ہوئی۔الزام کی حقیقت جاننے کے لیے لڑکی اور اس کے باپ کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا جو منفی آیا اور لڑکی نے ابارشن رپورٹ بھی کیس کے ساتھ منسلک نہیں کی جس سے باپ کا جرم ثابت نہ ہو سکا۔