آم کے باغات کو گدھیڑی کے نقصان سے بچانے کیلئے نومبر کے آخری اور دسمبر کے پہلے ہفتہ میں پودوں کے تنوں پر دو سے تین فٹ بلندی پر بند لگانے کی ہدایت

جمعہ نومبر 16:39

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 نومبر2019ء) ماہرین زراعت نے باغبانوں کو آم کے باغات کو گدھیڑی کے متوقع نقصان سے بچانے کیلئے نومبرکے آخری اور دسمبر کے پہلے ہفتہ میں پودوں کے تنوں پر دو سے تین فٹ کی بلندی پر بند لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مذکورہ سفارش پر عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ سردی کے فوراًً بعد زمین سے نکلنے والے گدھیڑی کے نوزائیدہ بچے تنے کے ذریعے پودوں پر چڑھ کر نقصان نہ پہنچا سکیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ پودوں کے تنوں پر لگائے جانے والے بند دو قسم کے ہوتے ہیں ایک چپکانے والے اور دوسرے پھسلانے والے، چپکانے والے بند کی چوڑائی 8سے 10 سینٹی میٹر جبکہ پھسلانے والے بندکی چوڑائی 15سے 30سینٹی میٹر ہوتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ بند کا باقاعدگی سے معائنہ کر تے رہنا چاہیے اور اگر چپکانے والے بند خشک ہونا شروع ہو جائیں تو دوبارہ لگائیں تاکہ یہ اپریل تک کارآمد رہیں جبکہ پھسلانے والے بند جو کہ پولی تھین یا پلاسٹک شیٹ پر مشتمل ہوتے ہیں ان کے لگانے سے پہلے یہ یقین کرلیاجائے کہ تنے کی سطح ہموار ہے اور اگر تنے کی سطح ہموار نہ ہو تو پہلے گوبر اور مٹی لا کر تنے پر لیپ کر کے تنے کی سطحوں کو ہموار کرلیاجائے اور بند کے نچلے سروں کو گارے سے اچھی طرح لیپ کر کے بند کردیاجائے تاکہ اس کے نیچے سے کیڑے اوپر نہ چڑھ سکیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ سردی کے بعد درجہ حرارت میں تھوڑے سے اضافہ سے اس بند کے نیچے گدھیڑی کے بچے کثیر تعداد میں نظر آ تے ہیںجنہیں مٹی کے تیل یا زہروں کے استعمال سے ختم کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس ضرر رساں اور خطرناک کیڑے کا بروقت تدارک انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ کیڑا جس باغ میں داخل ہو جائے وہاں سے اس کا نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔

متعلقہ عنوان :