فصلوں کی کٹائی اور برداشت کے دوران اجناس کے ضیاع سے پاکستان کو سالانہ 1.13 ارب ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ

جمعہ نومبر 20:45

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 نومبر2019ء) فصلوں کی کٹائی اور برداشت کے دوران اجناس کے ضیاع سے پاکستان کو سالانہ 1.13 ارب ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک ( اے ڈی بی) نے پاکستان ہول سیل کی زرعی مارکیٹوں کے حوالے سے جاری اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ فصلوں کی تیاری کے بعد ان کی کٹائی اور برداشت وغیرہ کے مراحل میں زرعی اجناس کا ضیاع ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق برداشت کے دوران ہونے والے نقصانات میں 75فیصد کی کمی سے پاکستان سالانہ 1.13 ارب ڈالر کی بچت کرسکتا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے ’’ہارٹی کلچر و یلیو چین کے مسائل اور مارکیٹنگ کے جدید بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ‘‘ کے عنوان سے ایشیائی ترقیاتی بینک کے دیہی ترقی اور غذائی تحفظ کے شعبہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جلد خراب ہونے والی اجناس( پھلوں اور سبزیوں) کی برداشت کے دوران ٹرانسپورٹیشن کی غیر معیاری ‘ سٹوریج کی ناکافی سہولیات اور مارکیٹنگ کے مسائل کی وجہ سے مجموعی پیداوار کا 30 تا 40 فیصد ضائع ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں سال 2016ئ کی قیمتوں کے تناسب سے کہا گیا ہے کہ آلو ‘ ٹماٹر‘گوبھی ‘ گاجر ‘ پیاز ‘ انگور ‘ سیب اور آم سمیت دیگر پھلوں اور سبزیوں کی برداشت کے دوران پاکستان کے زرعی شعبہ کو 700 تا 934 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ اے ڈی پی نے مزید کہا ہے کہ پھلوں اور سبزیوں کے علاوہ دیگر فصلوں بشمول گندم ‘ چاول ‘ مکئی اور گنا وغیرہ کی برداشت اور کٹائی کے موقع پر جدید ٹیکنالوجی اور سہولیات کے فقدان کی وجہ سے بھی پاکستان کی معیشت کو بھاری نقصانا ت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ برداشت کے موقع پر ہونے والے نقصانات میں 75 فیصد کمی سے پاکستان سالانہ 1.13 ارب ڈالر کے نقصان سے بچ سکتا ہے جس کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال ‘ بینادی ڈھانچے اور سٹوریج ‘ مارکیٹنگ کی سہولیات میں اضافہ کی ضرورت ہے۔