سعودی باشندے نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑ ھ کر حصّہ لینے لگے

سعودی شماریاتی ادارے کے مطابق22.6 فیصد مرد رضا کار فلاحی خدمات انجام دے رہے ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ دسمبر 12:30

سعودی باشندے نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑ ھ کر حصّہ لینے لگے
جدہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 6دسمبر 2019ء) سعودی باشندے انسانیت کی خدمت اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لینے لگے ہیں۔ سعودی شماریاتی ادارے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سعودی مردوں کی خصوصاً بڑی گنتی رضاکار خدمات کی جانب تیزی سے مائل ہو رہی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 22.6 فیصد نوجوان مرد رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ بات گزشتہ روز 5دسمبر کو بین الاقوامی رضاکار دِن کی مناسبت سے ظاہر کی گئی ہے۔

شماریاتی ادارے نے بتایا کہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران مملکت میں موجود سعودی اور تارکین وطن کی کُل آبادی میں سے 14.7 فیصد نے رضاکار خدمات انجام دی ہیں۔ جبکہ سعودی آبادی میں سے رضا کار خدمات انجام دینے والوں کا تناسب 22.6 فیصد تک پہنچ چکا ہے جن میں مردوں کی گنتی 16.8 فیصد ہے جبکہ سعودی خواتین کی کُل گنتی کا 10.8 فیصد یہ خدمات انجام دیتا ہے۔

(جاری ہے)

حال ہی میں کروائے گئے سروے کے مطابق گزشتہ بارہ ماہ کے دوران سعودی و غیر سعودی رضا کاروں نے اوسطاً.2 52گھنٹے کی رضاکار خدمات انجام دیں جبکہ سعودی رضاکاروں کا مجموعی اوسط دورانیہ 52.6 گھنٹے ریکارڈ کیا گیا۔

سعودی ہلال احمر کے سربراہ ڈاکٹر محمد القاسم نے بڑے فخر سے یہ بات بتائی ہے کہ اس وقت 20 ہزار سے زائد رضا کار اس فلاحی ادارے کووقتاً فوقتاً اپنی مفت خدمات پیش کر رہے ہیں ۔ سعودی ہلال احمر نے 5دسمبر کو دُنیا بھر کی طرح مملکت کی تمام شاخوں میں ”بین الاقوامی رضا کار دِن“ منایا اس حوالے سے مختلف تقریبات کا انعقاد بھی کیا گیا جن میں بے مثال خدمات انجام دینے والے رضاکاروں کو اعزازات سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر القاسم کا مزید کہنا تھا کہ سعودی ہلال احمر نے ایک نیا اقدام اُٹھایا ہے جس کے تحت جمعہ المبارک کو رضاکارانہ خدمات کے لیے خصوصی طور پر مخصوص کر دیا ہے۔ جبکہ عمرہ سیزن اور حج سیزن کے دوران بھی معتمرین اور حاجیوں کو سہولیات اور طبی امداد لگاتار فراہمی کی جا رہی ہے۔