پی ایس ایل اس سال کریگا مالا مال، پی سی بی نے آس لگا لی

رواں سال پاکستان کرکٹ بورڈ کو 3.69ارب ‎کی آمدنی ہونے کاامکان

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب بدھ فروری 15:10

پی ایس ایل اس سال کریگا مالا مال، پی سی بی نے آس لگا لی
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔26فروری2020ء ) آمدنی کا ایک خطیر حصہ سکیورٹی پر خرچ ہونے کے باوجود بھی پی ایس ایل پاکستانی معیشت کے لئے سود مند ثابت ہو رہا ہے۔پاکستان نے جب پی ایس ایل کا آغاز کیا تو سکیورٹی کی صورتحال مخدوش تھی جس کے باعث پی سی بی کو پہلے سال لیگ بیرون ملک کروانی پڑی، لیگ کے بیرون ملک ہونیکی وجہ سے کوئی خاطر خواہ آمدن تو نہ ہوئی مگر برانڈ مستحکم ہوگیا اور آج پاکستان سپر لیگ دنیا کی بہترین لیگز میں شمار ہوتی ہے۔

پی ایس ایل کی وطن واپسی سے جہاں ہمارے میدان آباد ہوئے وہاں معیشت کا پہیہ بھی چل پڑا، سپورٹس ٹورازم نے پاکستان کو فائدہ پہنچانا شروع کر دیا۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق سیزن ون کا منافع صرف اڑھائی ملین ڈالرز تھا۔دوسرا سیزن پہلے سے بھی زیادہ ہنگامہ خیز رہا۔

(جاری ہے)

میچ بھی بڑھ گئے، برانڈ بھی قدرے مستحکم ہو گیا اور پھر لاہور کے فائنل کی گونج تو پوری دنیا میں سنائی دی۔

دوسرے سیزن کا ریونیو 109 ملین روپے رہا، جو قریباً 10 لاکھ ڈالرز بنتے ہیں۔چند دنوں سے پی ایس ایل کا 5واں ایڈیشن شروع ہو چکا ہے، ایسے میں ہر طرف ‎کرکٹ کا جنون طاری ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں معاشی سرگرمی بھی تیز ہوگئی ہے۔ کھیل کی سیاحت نے پاکستان کی سست روی کی شکار معیشت کا پہیہ تیزی سے گھما دیا ہے۔آمدن کے حوالے سے مقامی سطح کی بات کریں تو پی ایس ایل سے ایئرلائنز، ٹیکسٹائل، سپورٹس، ایڈورٹائزنگ، ہوٹل اور ریسٹورنٹ انڈسٹری براہ راست فعال کردار ادا کرکے منافع کمائیں گی۔

اس سب کے ساتھ شائقینِ کرکٹ کو اپنے اپنے شہر کے میدانوں میں معیاری اور بہترین کھیل اور تفریح میسر آئے گی اور کھیل کی سیاحت سے حکومت کو براہِ راست اور بالواسطہ معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔‎اس کے ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ ٹائٹل کی بولی، اشتہاروں اور براڈ کاسٹنگ رائٹس، ٹکٹوں کی فروخت وغیرہ سے ذرمبادلہ حاصل کرے گا۔ ایک اندازے کے مطابق اس سال پی ایس ایل سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو 3.69ارب ‎کی آمدنی متوقع ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایونٹ کے دوران پاکستان میں کاروباری سرگرمی بڑھنے سے ملکی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بھی بہتر ہوگا جو کہ یقیناً خوش آئند ہے۔