سپریم کورٹ کا سماجی کارکن پروین رحمان قتل کیس میں ٹرائل کورٹ کو ایک ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم

جمعرات ستمبر 15:27

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 ستمبر2020ء) سپریم کورٹ نے سماجی کارکن پروین رحمان قتل کیس میں ٹرائل کورٹ کو ایک ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت عظمی نے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ حیرانی کی بات ہے کہ گزشتہ بیس ماہ سے کیس کا ٹرائل تعطل کا شکار ہے۔جمعرات کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماجی کارکن پروین رحمان قتل کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ممبر جے آئی ٹی نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں پانچ ملزمان تھے، ایک ملزم قاری بلال کو اسی شام قتل کردیا گیا تھا، اس کیس سے قاری بلال کا کوئی تعلق نہیں تھا،جسں پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ اگر قاری بلال کا اس قتل سے تعلق نہیں تھا تو اسلحہ کیسے میچ کر گیا۔

(جاری ہے)

ممبر جے آئی ٹی نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس کے ملزمان کو تین سال بعد مشکل سے گرفتار کیا گیا۔

دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ملزمان گرفتار ہیں تو کیس کا ٹرائل کہاں تک پہنچا۔عدالتی استفسار پر سربراہ جے آئی ٹی پیر محمد نے بتایا کہ شہادتیں اور بیانات مکمل ہو چکے ہیں، سپریم کورٹ کی وجہ سے کیس حتمی دلائل کے لئے رکا ہوا ہے جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں کوئی حکم امتناعی جاری نہیں کیا۔عدالت عظمی نے سماجی کارکن پروین رحمان قتل کیس میں ٹرائل کورٹ کو ایک ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دیدیا ہے۔