آذربائیجان نے کئی شہر، درجنوں دیہات آزاد کروا لیے، آرمینیا کے 800 سے زائد فوجی ہلاک

روس اور دیگر ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں ناکام، کئی روز سے جاری جنگ مزید شدت اختیار کر گئی

muhammad ali محمد علی بدھ اکتوبر 20:14

آذربائیجان نے کئی شہر، درجنوں دیہات آزاد کروا لیے، آرمینیا کے 800 سے ..
باکو (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اکتوبر2020ء) آذربائیجان نے کئی شہر، درجنوں دیہات آزاد کروا لیے، آرمینیا کے 800 سے زائد فوجی ہلاک، روس اور دیگر ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں ناکام، کئی روز سے جاری جنگ مزید شدت اختیار کر گئی۔ تفصیلات کے مطابق آذربائیجان کے خلاف جاری لڑائی میں آرمینیا کی طرف مرنے والے فوجیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

آرمینیا کی جانب سے مرنے والے فوجیوں کی تعداد 800 سے زائد ہوگئی ہے۔ آرمینیا کی وزارت دفاع نے پہلے کہا تھا کہ ممکنہ طور پر یہ اعداد و شمار نامکمل ہوں کیونکہ مسلسل جاری جنگ میں مرنے والے افراد کے اعداد و شمار دیر سے موصول ہو رہے ہیں۔ جبکہ بتایا گیا ہے کہ آذربائیجان کی فوج نے 3 شہر، 95 دیہات سمیت مزید کئی علاقے آزاد کروا لیے ہیں۔

(جاری ہے)

آذربائیجان کی فوج نے اپنا جھنڈا ان علاقوں میں لہرا دیا ہے۔

جبکہ آذربائیجان کی فوج نے 1990 کی دہائی سے آرمینیا کے زیر قبضہ دریائے اراکیز پر پر بھی اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔ آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے دعوی کیا ہے کہ ان کی فوج نے مزید علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ ہم نے فضولی شہر کو آزاد کرالیا اب یہاں پر موجود مساجد سے دن میں پانچ وقت اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوں گی۔ آذربائیجان کے صدر کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ پھر کہتے ہیں کہ آرمینیا کی فوج ہماری سرزمین پر سے فوری قبضہ چھوڑ دیں، اگر یہ کام ہوجاتا ہے تو جنگ بندی ممکن ہے وگرنہ ہم اپنی سرزمین ایک ایک انچ ٹکڑا بھی حاصل کریں گے۔

ہم جواب میں کبھی بھی آرمینیا کے شہریوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے بلکہ دشمن کو میدان جنگ میں ہی جواب دیا جائے گا ۔ دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین جنگی بندی کی دوسری کوشش بھی بظاہر ناکام ہو گئی ہے۔ نگورنو کاراباخ کے مختلف حصوں میں مسلح جھڑپیں جاری ہیں۔ حریف ممالک آرمینیا اور آذربائیجان کے کے درمیان نگورنو کاراباخ میں ستائیس ستمبر سے شدید جھڑپیں جاری ہیں، جن میں اب تک سینکڑوں شہری اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

متعلقہ عنوان :