میرا بیٹی کا پوسٹ مارٹم نہ کیا جائے،بس لاش دے دی جائے

لاہور میں اندھی گولی کا نشانہ بننے والی فاطمہ کی والدہ کی دہائی

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ اکتوبر 03:09

میرا بیٹی کا پوسٹ مارٹم نہ کیا جائے،بس لاش دے دی جائے
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اکتوبر2020ء) گزشتہ روز لاہور کی سڑک پر جس قسم کا دلخراش واقعہ پیش آیا اس پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔ابھی اس واقعے کا دکھ کم نہیںہوا تھا کہ مقتولہ کی والدہ کا دل کو لرزا دینے والا بیان بھی سامنے آ گیا کہ وہ کسی قسم کی کارروائی نہیں کرنا چاہتے اس لیے اس کی بیٹی کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہ کیا جائے اور لاش صحیح سلامت واپس دے دی جائے۔

اس واقعے کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے مگر یہ واقعہ ڈولفن فورس کی قابلیت اور اہلیت پر بھی سوال اٹھا دیتا ہے۔یہ ڈولفن فورس کی نااہلی کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی لاہور میں شاہدرہ کے علاقے میں ایک راہگیر ان کی اندھی گولی کا نشانہ بن چکا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں ہجوم میں ڈاکوﺅں پر قابو پانے کی تربیت نہیں دی جاتی،یا پھر اسلحہ چالنے کی بہترین تربیت نہیں دی گئی۔

(جاری ہے)

اگر پنجاب پولیس ایسی اسپیشل فورسز کو ٹریننگ دینے کے قابل نہیں ہے تو ان کی ٹریننگ بھی آرمی سے کرا لی جائے کیونکہ عوام کا یہی مطالبہ ہے کہ ڈاکو ہلاک ہوں یا نہ ہوں کم از کم بے گناہ شہریوں کی جانیں تو بچ جائیں۔یوں تو عام بے گناہ شہری لٹیروں کی گولیوں سے کم اور محافظوں کی گولیوں سے زیادہ مررہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب کے دارالحکومت میں ڈولفن فورس اور ڈاکووں کے درمیان مبینہ مقابلے کی زد میں آکر 22 سالہ لڑکی جاں بحق ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق لاہور کے علاقے وحدت روڈ پر ڈولفن اہلکاروں اور ڈاکوو¿ں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں فاطمہ نامی راہ گیر طالبہ گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لے کر آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی۔عینی شاہدین کے مطابق زخمی طالبہ کو ایمبولینس نہ ہونے کے سبب رکشے میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑکی دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں جاں بحق ہوئی ہے، یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا فاطمہ کو ڈاکووں کی گولی لگی ہے یا وہ ڈولفن فورس اہلکاروں کی فائرنگ کی زد میں آئی اس کی تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔ جاں بحق لڑکی کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے مردہ خانے منتقل کردیا گیا ہے تاہم فاطمہ کے والدین نے پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کردیا، والدہ کا کہنا تھا کہ ہم کوئی کارروائی نہیںکرنا چاہتے بس بیٹی واپس لادو۔

ذرائع کے مطابق ڈولفن اہلکاروں نے تینوں ڈاکوو¿ں کو گرفتار کرلیا، پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے ڈاکو ریکارڈ یافتہ ہیں اوران کے خلاف درجنوں ڈکیتی کے مقدمات درج ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ڈاکوئوں کی شناخت حسن، ارشد اور فیصل کے نام سے ہوئی ہے، ملزمان سے تحقیقات میں مزید انکشافات متوقع ہیں۔