ایران: دوران حراست ایک شخص کی موت، پولیس افسر گرفتار

DW ڈی ڈبلیو پیر اکتوبر 18:40

ایران: دوران حراست ایک شخص کی موت، پولیس افسر گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 26 اکتوبر 2020ء) ایران کے کسی پولیس افسر کے خلاف تفتیشی کارروائی اور تحقیقات کا یہ غیر معمولی اعلان اور اس افسر کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں لائی گئی ہے جب ابھی دو ہفتہ قبل ہی ایران کی عدالتی اتھارٹی نے مدع الیہان کے ساتھ اذیت رسانی اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

میزان آن لائن کے مطابق مجرم پولیس افسر کو فوجی پراسیکیوٹر کے دفتر کے حکم پر گرفتار کیا گیا۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا،'' دو دیگر پولیس افسران جنہوں نے متاثرہ شخص کو پولیس اسٹیشن منتقل کیا تھا، انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس افسر کی گرفتاری

ایران کے شمال مشرقی حصے میں واقعے صوبے خراساں رضوی کے پولیس چیف محمد کاظم تغاوی نے اس واقعے کی چھان بین کروانے کا اعلان کیا جس کی وجہ ایران کے باہر میڈیا میں اس واقعے پرمچنے والی کھل بلی اور اس کی کڑی مذمت بنی۔

(جاری ہے)

دراصل ایران کے باہر میڈیا کے ذریعے یہ خبر عام ہوئی ہے کہ موت کے مُنہ میں جانے والے شخص کو '' کالی مرچ کے اسپرے کے زہر دے کر ہلاک کیا گیا۔‘‘

محمد کاظم تغوی نے ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کو بیان دیتے ہو کہا،'' اس معاملے کی فوری تحقیقات اور یہ جاننے کے لیے کہ یہ واقعہ کیسے اور کیوں پیش آیا،خصوصی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

‘‘ محمد کاظم تغوی نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے متعلق تحقیقات کے نتائج کا اعلان جلد ہی کر دیا جائے گا۔

ہوا کیا تھا؟

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق موت کے مُنہ میں جانے والے اس شخص اور اس کی سابقہ اہلیہ کے اہل خانہ کے مابین کوئی 'خاندانی تنازعہ‘ پایا جاتا تھا۔ اس تنازعے کے بیچ ایک پولیس افسر کو جائے وقوعہ پر بلایا گیا اور اس شخص کی موت اسے تھانہ منتقل کرنے کے دوران ہوئی۔

نیوز ایجنسی فارس کی رپورٹوں کے مطابق،''سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں یہ سین دیکھنے میں آیا کہ پولیس کے سامنے یہ شخص جس وقت پولیس کو اپنا حلفیہ بیان دے رہا تھا اُس وقت پولیس نے کالی مرچوں والا اسپرے اور بجلی کے جھٹکے دینے والا ایک تار استعمال کیا۔‘‘

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ،'' یہ شخص کالی مرچوں والے اسپرے کی وجہ سے دم گھٹنے کے نتیجے میں فوت ہوا۔

‘‘

اُدھر ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کی رپورٹ سے پتا چلا کہ صوبائی عدلیہ کے ایک افسر مہدی اخلغی نے کہا ہے کہ موت کے گھاٹ اترنے والے اس شخص کے گھر والوں نے یہ الزامات عائد کیے ہیں۔ اخلغی کے مطابق ''اس شخص کی اٹاپسی کے دوران اس کے پھیپھڑوں سے نمونے لیے جائیں گے تاکہ یہ پتا چل سکے کہ اس کی موت کی وجہ میں کالی مرچوں کے اسپرے کے اثرات کا کس حد تک ہاتھ ہے۔

‘‘

اذیت رسانی پر پابندی

رواں ماہ یعنی اکتوبر کی 15 تاریخ کو ایران کی عدلیہ کی جانب سے ایک حکم جاری کیا گیا تھا جس میں تشدد ،''جبری اعتراف جرم‘‘ کے استعمال ، تنہائی کی قید ، غیر قانونی پولیس تحویل اور مدعا علیہان کے حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اس اعلان سے ایک ہفتہ قبل سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز کے ذریعہ یہ تنازعہ پھیل گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ پولیس افسران نے ایک سڑک کے بیچ و بیچ پک اپ ٹرکوں میں نظربند افراد کو بُری طرح زد و کوب کیا۔

یہ ویڈیوز غالباً تحران میں بنائی گئی ہیں جن میں، نظربند افراد کو '' اعتراف جرم اورمعافی مانگنے ‘‘ پر مجبور کرتے دکھایا گیا ہے۔
ایران کی عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ ابراہیم رئیسئی نے اس بارے میں کہا کہ پولیس کی یہ کارروائی ''شہری حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے‘‘۔ انہوں نے ذمہ داروں کے خلاف اقدامات کرنے کا حکم دیتےہوئے کہا،'' ملزموں پر حملہ کرنے سے سختی سے منع کیا گیا تھا ، خواہ وہ ٹھگ ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘

ک م/ ب ج/ اے پی/ رائٹرز/ اے ایف پی