فرانس حکومت کا مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاﺅن عروج پر

مساجد و مدارس کے بعد مسلم این جی او کو دہشت گرد تنظیم کا نام دے کر بین کر دیا

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ اکتوبر 06:28

فرانس حکومت کا مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاﺅن عروج پر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اکتوبر2020ء) فرانس ہے کہ غلطی پر غلطی کیے جا رہا ہے۔ایسے لگ رہا ہے کہ فرانسیسی حکومت اپنے موقف پر ڈٹ چکی اور پیچھے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔پہلے ایک اسکول ٹیچر نے حضور نبی پاکﷺؑ کے نعوذ باللہ کارٹون دکھائے۔مگر ا سکے بعد شہر بھر کی سرکاری اور اہم عمارتوں پر پینا فلیکس کی صورت میں آویزاں کر دیے گئے جو کہ مکمل طور پر حکومتی پشت پناہی میں کیا گیا۔

اس کے بعد حکومت نے کریک ڈاﺅن شروع کیااور مساجد و مدارس کو بند کرنا شرع کیا۔فرانس حکومت کے ان اقدامات پر اور ناموس رسالتﷺ کے حوالے سے دنیا بھر کے مسلمانوں نے شدید ردعمل دیا مگر فرانس حکومت نے پیچھے ہٹنے اور معافی مانگنے کے بجائے الٹا کریک ڈاﺅن میں شدت اختیارکر لی۔فرانس پولیس مسلمانوں کے گھروں میں گھسنے کے علاوہ مساجد میں نماز کے لیے آنے والے مسلم خواتین و حضرات کو گرفتار کر رہی اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔

(جاری ہے)

یہی نہیں بلکہ فرانس حکومت نے ملک کی سب سے بڑی مسلم این جی او ”برکہ سٹی“ کو بھی یہ کہہ کر بین کر دیا ہے کہ اس تنظیم کے مسلم انتہا پسندوں کے ساتھ تعلقات ہیں اس لیے اس پر کام کرنے کی پابندی عائد کی جاتی ہے۔یہ بیان فرانس حکومت کے منسٹر نے ٹویٹ کرتے ہوئے دیا ہے۔پچھلے دو دن سے سوشل میڈیا سائٹس پر ایسی کئی ویڈیوز بھی وائرل ہیں جس میں فرانس پولیس مسلمانوں کے ساتھ تشدد کررہی ہے اور انہیں گرفتار کر رہی ہے۔

فرانس میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ حکومت کے ایماپر ہو رہا ہے اور یہ سب کچھ کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت ہی کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی آزمائش کا وقت آ چکا مگر یہاں وہی کچھ کرنا ہو گا جو آقائے نامدارﷺ نے چودہ سو برس پہلے حکم دیا تھا۔حضور نبی پاکﷺ ساری دنیا کے لیے اور سارے انسانوں کے لیے رحمت بن کر آئے تھے اور ساری دنیا کو امن کا درس دیا تھا۔اگرچہ حضور نبی پاک ﷺ کی ناموس پر سب قربان مگر امن کا دامن تھامے ہوئے فرانس کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جائے تاکہ وہ خود ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔