بیمارزرعی شعبہ ملکی سلامتی کے لئے خطرہ بن رہا ہے:میاں زاہدحسین

ناکام زراعت سارے معاشی ڈھانچے کو زمین بوس کر سکتی ہے، کپاس کی پیداوار اور زیر کاشت رقبہ مسلسل کم ہو رہا ہے

جمعہ نومبر 13:50

بیمارزرعی شعبہ ملکی سلامتی کے لئے خطرہ بن رہا ہے:میاں زاہدحسین
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2020ء) ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ نظر انداز شدہ زرعی شعبے کو فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ ملکی سلامتی، غذائی خود کفالت اور صنعتی شعبوں کیلئے بڑا خطرہ بن جائے گا۔

حکومت اور مرکزی بینک کے اقدامات کی وجہ سے صنعتی شعبے بہتری کی جانب گامزن ہیں اور سرمایہ کار حالات کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں تاہم لڑکھڑاتا ہوازرعی شعبہ تمام کئے کرائے پر پانی پھیر سکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گندم فوڈ سیکورٹی کے لئے اہم ہے تو کپاس معیشت کی لائف لائن ہے اور دونوں کی حالت خراب ہے۔

(جاری ہے)

ملک میں سینکڑوں ٹیکسٹائل ملز جو زرمبادلہ کا60 فیصد کما رہی ہیں اور شہری علاقوں میں سب سے زیادہ روزگار دے رہی ہیں کا انحصار کپاس پر ہے جس کا زیر کاشت رقبہ اور پیداوارگزشتہ دس سال سے مسلسل کم ہو رہی ہے۔ایک طرف پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر مقامی کپاس استعمال کرنے پر مجبور ہے جو دنیا میں سب سے مہنگی ہے اور اسکا معیار بھی کم ہے جبکہ دوسری طرف کپاس پر انحصار کرنے والے 15 لاکھ کسان بھی بدحال ہیں جس سے اس شعبے کی تباہ حالی کا پتہ چلتا ہے۔

بین الاقوامی منڈی میں کپاس کی قیمت 71.29 سینٹ فی پونڈ ہے جبکہ پاکستان میں اسکی قیمت76.85 پونڈ ہے۔پاکستان میں کپاس کی اوسط پیداوارگزشتہ دس سال میں 880 کلو فی ہیکٹر سے گر کر577 کلو فی ہیکٹر رہ گئی ہے جبکہ وسط ایشیائی ممالک میں اوسط پیداوارگیارہ سو سے بارہ سو کلو فی ہیکٹر، برازیل میں 1660 کلو فی ہیکٹراور چین میں 1826 کلو فی ہیکٹر ہے ۔ ان ممالک کی کپاس پاکستانی کپاس سے سستی اور اسکا معیار بھی بہتر ہے۔ اگر کپاس کی فی ایکڑ پیداوار اور اس اہم فصل کا زیر کاشت رقبہ اسی طرح کم ہوتا رہاتو ملک مسائل کے گرداب میں پھنس جائے گا اور ٹیکسٹائل سیکٹر کو اپنی بقاء کے لئے بھاری مقدار میں کپاس درآمد کرنا ہو گی جس سے زرمبادلہ ضائع ہونے کے ساتھ دیگر سنگین مسائل جنم لینگے۔