نیپرا نے بجلی 86 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا معاملہ موخر کر دیا

وضاحت پیش کی جائے کہ کپیسٹی چارجز 58 فیصد بڑھ گئے؟ چیئرمین نیپرا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل نومبر 16:53

نیپرا نے بجلی 86 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا معاملہ موخر کر دیا
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 نومبر ۔2020ء) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی 86 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا معاملہ موخر کر دیا ہے. گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں صارفین سے وصولی کیس کی سماعت کے دوران نامکمل تفصیلات فراہم کرنے پر چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی نے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ آئیسکو کے کپیسٹی چارجز میں 7 ارب روپے سے زائد کیوں بڑھے؟.

(جاری ہے)

اس پر آئیسکو چیف سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام سے پوچھا جائے کہ 7 ارب روپے کیوں بڑھے؟سماعت کے دوران چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی نے کہا اگر مکمل تفصیلات فراہم نہ کی گئیں تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں گے مکمل تفصیلات فراہم کرنے تک سماعت نہیں کی جاسکتی ہے. سابق واپڈا کمپنیوں (ڈسکوز) حکام نے موقف اختیار کیا کہ گزشتہ مالی سال کی چوتھی سہہ ماہی کی مد میں 85 ارب روپے وصول کرنے ہیں سی او آئیسکو نے کہا کہ اس مد میں 12 ارب روپے وصول ہونے چاہئیں تھے.

دوران سماعت چیئرمین نیپرا نے پوچھا کہ سی پی پی اے کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرز کہاں ہیں؟ حکام نے کہا کہ سی ای او سی پی پی اے وزارت توانائی کے اجلاس میں ہیں سی پی پی اے کے سی ای او اتنی اہم سماعت پر کیوں موجود نہیں ہیں؟. حکام کی طرف سے جواب پر نیپرا چیئرمین نے کہا کہ ان سے کہیں کہ پیسے بھی وزارت توانائی سے لے لیں آپ کے پاس کیا وضاحت ہے کہ کپیسٹی چارجز 58 فیصد بڑھ گئے؟ سی پی پی اے حکام نے کہا کہ یہ سب چیک کر کے اتھارٹی کو بتائیں گے چیئرمین نیپرا نے ہدایت کی کہ یکم دسمبر کو اگلی سماعت پر مکمل تفصیلات لائیں تفصیلات فراہم نہ کی گئیں تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں گے.

متعلقہ عنوان :