تیگرائی کے علاقائی دارالحکومت پر قبضہ کر لیا ہے، ایتھوپیا

DW ڈی ڈبلیو اتوار نومبر 14:40

تیگرائی کے علاقائی دارالحکومت پر قبضہ کر لیا ہے، ایتھوپیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 29 نومبر 2020ء) ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں لکھا کہ میکیلے کا مکمل کنٹرول اب مرکزی حکومت کے پاس ہے اور یہ کہ باغی گروپ تیگرائی پیپلز لبریشن فرنٹ کی جانب سے یرغمال بنائے گئے ہزاروں فوجیوں کو بھی رہا کرا لیا گیا ہے۔ ایتھوپیا کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ابی احمد کا کہنا ہے، ''اب ہمیں تباہی کے بعد تعمیر نو کا اہم کام کرنا ہے اور تیگرائی میں امن کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔

‘‘ تاہم باغی گروپ کے سربراہ ڈیبریٹسیون گیبریمیشائل کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کی جانب سے ابی احمد کی حکومت کے خلاف جنگ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو موبائل میسیج کے ذریعے بتایا، ''اس ظلم سے ہم قبضہ کرنے والوں کے خلاف لڑائی میں مزید متحد اور پر عزم ہوگئے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

مزاحمت کاروں کو الٹی میٹم

ابی احمد نے تین ہفتے قبل اس گروپ کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ اتوار کو تیگرائی مزاحمت کاروں کو الٹی میٹم دیا گیا تھا کہ وہ ہتھیار پھینک دیں یا پھر بڑے حملے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ حکومت کی تین روزہ دھمکی کی مہلت بدھ کو ختم ہو گئی تھی۔ یہ امر اہم ہے کہ میکیلے پانچ لاکھ آبادی کا ایک بڑا شہر ہے۔

ایتھوپیا: تیگرائی پر کسی بھی لمحے حملہ ہوسکتا ہے

ایتھوپیا: تیگرائی دارالحکومت پر قبضے کا فوجی آپریشن شروع

تیگرائی مسلح تنازعے کی شروعات

ایتھوپیا کے انتہائی شمالی علاقے تیگرائی میں حکومت مخالف مزاحمتی عمل کو کنٹرول کرنے کے لیے ابی احمد حکومت نے چار نومبر سے فوجی مشن شروع کر رکھا ہے۔

اس کی فوری وجہ تیگرائی باغیوں کا ملکی فوج کی شمالی کمانڈ پر کیا گیا حملہ تھا۔ اس حملے میں کئی افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ اس حملے کے حوالے سے محاذِ آزادی تیگرائی کا کہنا تھا کہ یہ ایک دفاعی کارروائی تھی۔

بڑے پیمانے پر مہاجرت

اس مسلح تنازعے کی وجہ سے تیس ہزار افراد مہاجرت کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ افراد ایتھوپیا کے ہمسایہ ملک سوڈان کے سرحدی قصبے میں خیموں میں مقیم ہیں۔

افریقی یونین کی مصالحتی کوششوں کو وزیر اعظم ابی احمد کی حکومت نے تسلیم نہیں کیا۔ دوسری جانب افریقی یونین نے اس تنازعے کے حل کے لیے ایک خصوصی ایلچی بھی مقرر کر رکھا ہے۔

واضح رہے کہ ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کی سہولتیں نا ہونے کے سبب اس علاقے کی اصل صورتحال کے بارے میں آزاد ذرائع سے معلومات نہیں مل رہیں۔

ب ج، اا