سیدنا حضرت علی ؓ کی حیات مبارکہ انسانیت کیلئے مینارہ نور ہے‘ڈاکٹرراغب نعیمی

مسلم حکمران آپ ؓ کی طرز حکمرانی سے رہنمائی لیکر ترقی کی منازل طے کرسکتے ہیں‘ناظم علیٰ جامعہ نعیمیہ

جمعہ فروری 18:04

سیدنا حضرت علی ؓ کی حیات مبارکہ انسانیت کیلئے مینارہ نور ہے‘ڈاکٹرراغب ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 فروری2021ء)دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے کہاہے کہ سیدنا حضرت علی ؓ کی حیات مبارکہ انسانیت کیلئے مینارہ نورہے۔مسلم حکمران آپ ؓ کی طرز حکمرانی سے رہنمائی لیکر ترقی کی منازل طے کرسکتے ہیں۔سیدنا علی ؓکا طرز حکومت عدل و انصاف اورانسانی مساوات پر مبنی تھا۔

آپ ؓنے انتشار کا شکار مسلم معاشرے کو پھر سے جوڑنے کی بھرپور کوششیں کیں۔ آپ ؓ کے دورخلافت میں وسائل پر ہر شہری کا برابر کا حق تھا اقلیتوں کو تمام بنیادی حقوق حاصل تھے آپؓ کے دورحکمرانی میں زیادہ تر اندرونی جنگوں کا سامنا رہا مگر اس کے باوجود معاشرے کے پسماندہ طبقات کا خیال رکھاان کو تمام حقوق فراہم کئے۔خلیفہ چہارم سیدنا حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب اور کردار و کارناموں سے تاریخ اسلام کے اوراق روشن ہیں جس سے قیامت تک آنے والے لوگ ہدایت و راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز جمعة المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہاکہ سیدنا حضرت علی المرتضٰیؓ ہی وہ خوش قسمت ترین انسان ہیں جن کو حضور ؓ نے جنگ خیبر کے موقع پر فتح کا جھنڈا عنایت فرمایا حضرت سہیل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ حضور ؐ نے جنگ خیبر کے دن فرمایا کہ کل یہ جھنڈا میں ایسے شخص کو دونگا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا، وہ شخص اللہ اور اس کے رسول ؐسے محبت رکھتا ہو گا پھر جب صبح ہوئی تو لوگ حضور ؐ کے پاس گئے، سب لوگ اس بات کی امید (اور خواہش) رکھتے تھے کہ جھنڈا ان کو دیا جائے مگر آپؐ نے پوچھا کہ علی ابن ابی طالبؓ کہاں ہیں لوگوں نے کہا کہ ان کی آنکھیں آشوب کی ہوئی ہیں، آپ ؐ نے فرمایا کہ ان کو بلواؤ وہ (حضرت علیؓ) لائے گئے، حضور ؐ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا تو وہ اچھے ہو گئے گویا کہ ان کی آنکھوں میں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں، پھر آپ ؐ نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا ۔

آپؓ کی شجاعت کا ذکر ہو تو دنیائے عرب و عجم کے بڑے بڑے نام آپ کا نام سن کر کانپ جاتے ۔ آپؓ کی تلوار نے استحکام اسلام میں بنیادی کردار ادا کیا۔ جنگ بدر ہو یا احد کا میدان، جنگ خندق ہو یا حنین و خیبر کا میداں کارزار ہو، ہر جنگ میں حضرت علی کی تلوار دشمنان اسلام کے لئے خوف کی علامت تھی۔