وزارت خزانہ پیچیدہ مسئلہ، حکومتی سوچ بچگانہ ہے، میاں رضا ربانی

پیر اپریل 23:42

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 اپریل2021ء) سابق چیئرمین سینیٹ اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ وزارت خزانہ پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس پر حکومتی سوچ بچگانہ ہے۔ایک بیان میں میاں رضا ربانی نے کہا کہ حکومت بچوں کے کھیل کی طرح وزیر خزانہ تبدیل کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلے کی طرف حکومت کی بچگانہ سوچ ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چوتھے وزیر خزانہ شوکت ترین تقرری سے قبل ا?ئی ایم ایف معاہدے پر بہت تنقید کرتے تھے۔اٴْن کا کہنا تھا کہ نئے وزیر خزانہ کا بڑا امتحان ہے کہ وہ عوام دشمن ا?ئی ایم ایف معاہدے سے حکومت کو باہر نکالیں۔ میاں رضا ربانی نے یہ بھی کہا کہ ا?ئی ایم ایف دستاویزات کے مطابق پی ٹی ا?ئی حکومت نے ان سے دفاعی اخراجات بھی شیئر کیے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ا?ئی ایم ایف سے ٹیکس میں 1 اعشاریہ 2 ٹریلین روپے اضافے پر اتفاق کیا ہے۔سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ حکومت نے بجلی کے نرخ میں 4 روپے 97 پیسے اضافے پر اتفاق کیا ہیجبکہ بجلی نرخوں میں ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ تبدیلی پر بھی اتفاق کیا گیا۔اٴْن کا کہنا تھا کہ دستاویزات کے مطابق حکومت پیٹرولیم لیوی 30 روپے لٹر تک رکھے گی، جس سے 670 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ صوبوں نے کہا ہے کہ وہ ا?ئندہ سال 570 ارب روپے کیش سرپلس دیں گے، ایف بی ا?ر ریونیو، جی ایس ٹی، ذاتی اِنکم ٹیکس اہداف پر پہلے ہی معاہدے میں اتفاق کرلیا گیا۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کو کم کرنے پر بھی حکومت اتفاق کرچکی ہے، ا?ئی ایم ایف معاہدے کے بعد کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ حکومت بجٹ سیشن منعقد کرے۔میاں رضا ربانی نے مزید کہا کہ تمام بجٹ اہداف ا?ئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر پہلے ہی طے کیے جا چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی حیثیت ایک ربر اسٹیمپ کی کردی گئی جو ا?ئی ایم ایف بجٹ منظور کرے گی۔سابق چیئرمین سینیٹ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی معاشی خود مختاری کو ا?ئی ایم ایف کے ساتھ بارٹر کر دیا گیا ہے۔