آٹھویں جماعت کی طالبہ تیزاب پھینکنے کی دھمکیوں کے بعد والدین کے ہمراہ پریس کلب پہنچ گئی

جمعہ 27 مئی 2022 23:56

ٹنڈو الہیار (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 مئی2022ء) آٹھویں جماعت کی طالبہ والدین کے ہمراہ اوباش نوجوان کی جانب سے تیزاب پھینکنے کی دھمکیوں کے خلاف انصاف و تحفظ کے حصول کیلئے ٹنڈوالہیار پریس کلب پہنچ گئی, وزیراعظم سمیت اعلی حکام سے انصاف کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق گائوں غلام رسول آرائیں کی رہائشی سمیہ آرائیں نے والدین کے ہمراہ ٹنڈوالہیار پریس کلب پہنچکر پریس کانفرنس کرتے ہوئے دلشاد لوند نامی نوجوان پر الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے اسکول جاتے ہوئے مذکورہ نوجوان مجھ دوستی رکھنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتا تھا میرے انکار کرنے پر دلشاد لوند نے میرے چہرے پر تیزاب پھینکنے کی دھمکی دی اور کہا کہ کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہی چھوڑوں گا حد تو یہ ہے کہ مذکورہ نوجوان گھر کے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھر میں گھسکر مجھ سے زبر دستی زیادتی کرنے کی کوشش کی چیخ و پکار پر گھر والوں نے مذکورہ نوجوان کو پکڑ کر انکے گھر والوں کے حوالے کیا دوسری جانب پریس کانفرنس کے دوران سمیعہ آرائیں کے والد سیف الرحمان آرائیں نے بتایا کہ جب ہم نے دلشاد لوند کو بچی کی چیخ و پکار کے بعد پکڑا تو نوجوان نے کہا کہ میری یہ غلطی معاف کردو آئندہ نہی کروں گا جسکے بعد میں نے علاقے کے معززین کو بلاکر مذکورہ نوجوان کیجانب سے معافی تلافی کے بعد انکے ورثا کے حوالے کیا تین سے چار روز گزرنے کے بعد مذکورہ نوجوان کے ورثا کی جانب سے پیارو لوند تھانہ پر جھوٹا مقدم درج کروایا گیا انہوں نے مذید بتایا کہ بچی کا معاملہ تھا اسلئے عزت کی وجہ سے تھانہ کورٹ کچہری سے بچنے کیلئے فیصلہ کیا آٹھویں جماعت کی طالبہ اور اسکے والدین نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ اوباش نوجوان کے خلاف قانونی کاروائی کرکے ہماری بچی کو تحفظ فراہم کیا جائے دوسری جانب دلشاد لوند کے ورثا اور برادری کی جانب سے میرپورخاص روڈ پر واقع بقاڈاہری کے مقام پر مقدمے میں عدم گرفتاری کے خلاف احتجاجی دھرنا و مظاہرہ کیا گیا مظاہرین کا کہنا تھا آرائیں برادری کے افراد کی جانب سے نوجوان دلشاد لوند کو مبینہ طور پر اغواہ کرکے رسیوں سے باندھکر بہیمانہ تشدد کرنیوالے مقدمے میں مطلوب افراد کی پولیس کی جانب سے گرفتار نہ کرنے کی وجہ سے احتجاج کر رہے ہیں مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ فی الفور نامزد ملزمان کو گرفتار کیا جائے بصورت احتجاج کا دائرہ وسیع کردیا جائے گا ۔