فاطمہ قتل کیس، ملزم اسد شاہ کی بڑی چالاکی سامنے آ گئی

ملزم نےپولیس کو ہر بار غلط کوڈ بتایا،بار بار غلط پن کوڈ لگانے سےاسد شاہ کا موبائل فون مکمل لاک ہو گیا

Muqadas Farooq Awan مقدس فاروق اعوان پیر 4 ستمبر 2023 12:32

فاطمہ قتل کیس، ملزم اسد شاہ کی بڑی چالاکی سامنے آ گئی
خیرپور ( اُردو پوائنٹ،اخبارتازہ ترین ۔ 04 ستمبر 2023ء) رانی پور کی حویلی میں تشدد سے جاں بحق فاطمہ کے مرکزی ملزم اسد شاہ نے پولیس کو غلط پاسورڈ بتایا جس کی وجہ سے اس کا موبائل مکمل لاک ہوگیا۔پولیس نے مرکزی ملزم اسد شاہ کو کراچی سے خیرپور منتقل کر دیا، ملزم اسد شاہ کو دوبارہ ڈی آکسی رائبو نیوکلک ایسڈ (ڈی این ای) ٹیسٹ کیلئے کراچی لے جایا گیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم اسد شاہ کے فون کا پن کوڈ بھی پولیس حاصل نہیں کر سکی، پولیس کو ملزم نے ہر بار غلط کوڈ بتایا۔بار بار غلط پن کوڈ لگانے سے ملزم کا فون مکمل لاک ہوچکا ہے۔مقدمے میں نامزد ملزمان حنا شاہ اور اس کے والد تاحال گرفتار نہیں ہو سکے، مقدمے میں گرفتار اسد شاہ اور ملزم امتیاز 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کسٹڈی میں ہیں۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ 14 اگست کو رانی پور کی حویلی میں 10 سالہ ملازمہ بچی کی مبینہ تشدد سے ہلاکت ہوئی تھی۔ میڈیا پر معاملہ سامنے آنے کے بعد مرکزی ملزم اسد شاہ کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ بچی کی موت سے قبل اس کی تڑپنے کی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی۔بچی کی ماں نے ابتدائی بیان دیا تھا کہ بچی کی موت طبعی ہے۔ پولیس نے اسی بیان پر اکتفا کر کے نہ بچی کا میڈیکل کروایا، نہ پوسٹ مارٹم کروایا۔

الٹا بچی کو تدفین کیلیے والدین کے حوالے کردیا۔بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات کی ویڈیوز سامنے آئیں تو پولیس کے اعلیٰ حکام نے نوٹس لیا اور اسٹیشن ہاؤس آفیسر رانی پور کو لاپرواہی پر معطل کردیا گیا تھا۔جب کہ فاطمہ کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں حناشاہ کوکوئی رعایت نہیں دینے والی، اسدشاہ اور حناشاہ کو سزا دلوا کر ہی دم لوں گی۔

اس سے قبل مقتولہ فاطمہ کی والدہ پر صلح اور مقدمے سے دستبرداری کیلیے دبا ڈالے جانے کا انکشاف ہوا تھا ، تاہم والدہ کا کہنا تھا کہ صلح نہیں کروں گی، مجھے انصاف چاہیے۔دوسری جانب چیئرپرسن سندھ سوہائی آرگنائزیشن اور سانا کی رکن ڈاکٹرعائشہ دھاریجو نے خیرپور کی دس سالہ مقتول گھریلو ملازمہ فاطمہ کے والدین سے ملاقات کی۔ڈاکٹرعائشہ دھاریجو کا کہنا تھا یہ واقعہ ظلم و بربریت ہے، سرداروں کی حویلیوں میں بچیوں سے مشقت کرائی جاتی ہے، فاطمہ کے والدین کی قانونی اور مالی مدد کر رہے ہیں۔