ولیکا ہسپتال میں استعمال شدہ سرنج اور طبی سامان باربار بچوں اور مریضوں پر استعمال ہونے کا انکشاف

درجنوں بچے ایچ آئی وی کا شکار، کئی بچے اللہ کو پیارے ہوگئے، بچوں کی بیماری کی حقیقت والدین سے بھی چھپائی گئی۔ صحافی کامران خان کی خبر

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 17 جولائی 2026 00:08

ولیکا ہسپتال میں استعمال شدہ سرنج اور طبی سامان باربار بچوں اور مریضوں ..
کراچی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 16 جولائی 2026ء ) سینئر صحافی کامران خان کی خبر کے مطابق ولیکا ہسپتال میں استعمال شدہ سرنج اور طبی سامان بار بار بچوں اور مریضوں پر استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ایکس پر اے آروائی نیوز پر اپنے پروگرام میں انہوں نے بتایا کہ بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سامنے آئیں اور کراچی میں ایچ آئی وی کے حالیہ اسکینڈل کا دفاع کریں!سندھ حکومت نے رپورٹ تیار کی جس میں اس حقیقت کی تصدیق کردی گئی ہے کہ ولیکا ہسپتال میں ایک بار استعمال شدہ سرنج اور طبی سامان کئی کئی بار بچوں اور مریضوں پر استعمال ہوتا رہتا ہے۔

ہسپتال میں تعینات طبی عملہ بھی تربیت یافتہ نہیں ہے۔
رپورٹ میں یہ شرمناک انکشاف بھی موجود ہے کہ ویلیکا ہسپتال کی انتظامیہ نے درجنوں بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کے سانحے کو کئی مہینے تک خفیہ رکھا۔

(جاری ہے)

سب سے بڑا ظلم یہ کیا گیا کہ یہ حقیقت ان بچوں کے والدین سے چھپائی گئی جن کے بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوچکے تھے، نتیجہ یہ نکلا کہ کئی بچے اللہ کو پیارے ہوگئے، مریض بڑھتے گئے اور کراچی ایچ آئی وی متاثرہ بچوں کا مرکز بنتا گیا۔

سابق وزیرصحت سندھ ڈاکٹر سعد کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک چیزایچ آئی وی کی نظر آئی یہاں ہیپاٹائٹس سی کا مسئلہ بھی سرنج کے دوبارہ استعمال سے پھیل رہا ہے۔ قانون ہونا چاہیئے کہ سرنج کو دوبارہ استعمال کرنا جرم ، قتل کے مترادف ہے۔لیکن معطل کرنے سے کیا ہوگا، وہ پھر عہدوں پر آجائیں گے یہی سسٹم چلا آرہا ہے۔
یاد رہے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس میں انکشاف کیا تھا کہ ایڈز پھیلاؤ کا صرف آلودہ سرنجیں ہی مسئلہ نہیں رہیں بلکہ ایچ آئی وی پھیلنے کی دیگر وجوہات بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑے شہروں میں کلب کلچر اور نائٹ پارٹیز کی وجہ سے بھی ایڈز پھیل رہا ہے، کلب کلچر اور نائٹ پارٹیز میں آئس اور نشہ آورچیزیں استعمال کی جاتی ہیں، جبکہ غیر محفوظ جنسی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ صحت خود جا کر پارٹیز نہیں روک سکتی، بلکہ تمام متعلقہ اداروں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ انتہائی تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ اسلام آباد سے روزانہ ایچ آئی وی کے 35 سے 40 نئے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں، متاثرہ افراد میں بڑی تعداد نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی ہے۔ جبکہ بہت سے نوجوانوں کو اس خطرے کا ادراک ہی نہیں۔