cریکوڈک اور سیندک کے وارث بلوچ قوم 21 ویں صدی میں کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں وفاق فوری طور پر آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے امدادی کاروائیاں شروع کرے۔ میر اسد اللہ بلوچ

جمعرات 18 اپریل 2024 22:35

/کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 18 اپریل2024ء) بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی صدر راجی راہشون واجہ میر اسداللہ بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچستان میں حالیہ بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے پورے بلوچستان میں معیشت کا انحصار زراعت پر ہے اور حالیہ بارشوں نے بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں زرعی فصلات کو شدید نقصان پہنچایا ہے کوچہ جات کے علاقوں میں تیز ہواؤں کے باعث زمینداروں کے سولر پینل ٹوٹ چکے ہیں اس لیے بلوچستان کو اس طوفانی کیفیت سے نکلنے کیلئے بڑے پیمانے پر ریلیف کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

وفاقی حکومت اور وزیر اعظم پاکستان کو چاہیے کہ وہ بلوچستان کیلئے عملی طور پر میدان میں آئیں اور بلوچستان کے ہر ضلع کو ریلیف کے طور پر ایک ارب روپے کا گرانٹ دے دیں تاکہ بلوچستان میں حالیہ نقصانات کا ازالہ کیا جاسکے بلوچستان کے اس درد اور تکلیف کا مداوا صرف زبانی جمع خرچ اور بیانات سے ممکن نہیں آج ریکوڈک اور سیندک کے وارث 21 ویں صدی کے اس جدید دور میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ہر طوفانی موقع پر بلوچستان کیلئے صرف اعلانات ہوئے ہیں اب ضرورت ہے کہ عملی طور پر اس امیر سرزمین کے غریب لوگوں کی امداد کی جائے اس لیے ایک دفعہ پھر وفاقی حکومت سے گزارش ہے کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان کیلئے بڑے پیمانے پر ریلیف کا اعلان کرکے اپنا آئینی فریضہ پورا کرے۔