ملک میں بجلی مہنگی ہونے کا سبب بننے والی کپیسٹی پیمنٹس میں دوبارہ اضافہ

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کیپسٹی پیمنٹس 19 ارب روپے اضافے سے مجموعی طور پر 500 ارب روپے پر پہنچ گئی، سب سے بڑی وجہ سرکاری جینکوز اور واپڈا کے پاور پلانٹس قرار دیئے گئے؛ رپورٹ

Sajid Ali ساجد علی پیر 15 دسمبر 2025 12:07

ملک میں بجلی مہنگی ہونے کا سبب بننے والی کپیسٹی پیمنٹس میں دوبارہ اضافہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 دسمبر2025ء) ملک میں بجلی مہنگی ہونے کا سبب بننے والی کپیسٹی پیمنٹس میں دوبارہ اضافہ ہوگیا۔ دنیا نیوز کے مطابق صارفین کیلئے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا سبب بننے والی کپیسٹی پیمنٹس میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، اس حوالے سے ممبر ٹیکنیکل نیپرا نے بتایا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہو رہا ہے تین ماہ کے دوران کپیسٹی پیمنٹس میں 19 ارب روپے اضافہ ہوا اور رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کیلئے کپیسٹی پیمنٹس 19 ارب اضافے کے ساتھ مجموعی 500 ارب روپے پر پہنچ گئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ پیمنٹس تقریباً 481 ارب روپے تھیں، اس تازہ ترین اضافے کی بڑی وجہ سرکاری پاور پلانٹس ہیں، یہ ادائیگیاں پرانے جینکوز اور واپڈا کے ہائیڈل پاور پلانٹس کو کی گئی ہیں جو پرانے اور غیر فعال یا کم استعمال شدہ پبلک سیکٹر پاور پلانٹس ہیں، ان پلانٹس کا جائزہ لیا جانا چاہیئے ، یہ پاور سیکٹر پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہے ہیں۔

(جاری ہے)

ممبر ٹیکنیکل نیپرا کا کہنا ہے کہ ان تین ماہ کے دوران اکنامک میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی کرکے غیر مؤثر یعنی ان ایفیشنٹ پاور پلانٹس کا استعمال کیا گیا، ان پلانٹس کا استعمال ٹرانسمیشن کی خرابیوں کی وجہ سے کیا گیا، ان چیزوں کو بھی دیکھ کر فوری اصلاحات کی ضرورت ہے، پاور پلانٹس کے کم یا بالکل استعمال نہ کرنے کے نتیجے میں کپیسٹی پیمنٹس میں اضافہ ہوا ہے، اکنامک میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مہنگے پلانٹس کو چلایا گیا جس سے بجلی کی مجموعی پیداواری لاگت مزید بڑھ رہی ہے، اس صورتحال میں آپریشنل صلاحیتوں کو بڑھانے اور پاور سیکٹر کی مالی استحکام یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :