موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کلائمٹ اسمارٹ زراعت وقت کی اہم ضرورت ہے، چیف سائنٹسٹ ایگریکلچرل ایوب ریسرچ

منگل 6 جنوری 2026 20:51

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 جنوری2026ء) چیف سائنٹسٹ ایگریکلچرل ایوب ریسرچ ڈاکٹر ساجد الرحمٰن نے کہا ہےکہ موسمیاتی تبدیلیوں نے زراعت کے روایتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث کاشتکاروں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے اس لیے موجودہ حالات میں کلائمٹ اسمارٹ کاشتکاری کو اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زرعی شعبے کو درپیش مسائل، فصلوں کی پیداوار میں کمی اور غذائی تحفظ کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں ''کلائمٹ اسمارٹ کاشتکاری کے جدید طریقے'' کے موضوع پر سیمینارسے خطاب کررہے تھے ۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں کلائمٹ اسمارٹ کاشتکاری کو اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے، صحت مند زمین نہ صرف فصلوں کی بہتر نشوونما کرتی ہے بلکہ فضا سے کاربن جذب کر کے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے متوازن کھادوں، پانی کے مؤثر انتظام اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے قدرتی وسائل کے تحفظ پر زور دیا۔

اس موقع پر پاکستان سوسائٹی آف ایگرونومی کے نو منتخب صدر ڈاکٹر نوید اختر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کلائمٹ اسمارٹ کاشتکاری کے فروغ اور زرعی تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک زرعی ماہرین کی فیلڈ لیول پر رہنمائی اور کسانوں کی عملی تربیت نہیں ہوگی، تب تک پائیدار زرعی ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہر ڈاکٹر فہد رسول نے کہا کہ جدید طریقہ ہائے کاشت اپنا کر کم وسائل میں بھی زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے جو کسانوں کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوگی۔سیمینار میں سابق پرو وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر، ڈائریکٹر SAWIE ڈاکٹر تسنیم خالق، ڈائریکٹر ایگریکلچرل انفارمیشن ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر انتظار الحسن، حافظ نوید رمضان سمیت زرعی سائنسدانوں اور کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پانی اور مٹی کے وسائل کا دانشمندانہ استعمال، موسمی حالات سے بروقت آگاہی اور کسانوں کی مسلسل تربیت ہی زرعی بحران کا واحد حل ہے۔ آخر میں سوسائٹی کے نو منتخب عہدیداران نے عزم ظاہر کیا کہ وہ جدید تحقیق کو کسانوں کے کھیتوں تک پہنچانے اور زرعی شعبے کو مستحکم بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھیں گے۔