پری ارائیول، پوسٹ پیمنٹ جی ڈی فائلنگ کلیئرنس کے عمل کو تیز بنا دے گی، ارشد خورشید

جمعہ 6 فروری 2026 20:04

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 فروری2026ء) پاکستان میں درآمدی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پری ارائیول فائلنگ اور پوسٹ پیمنٹ آف امپورٹ گڈز ڈیکلریشن (جی ڈی)کے نفاذ کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (اے پی سی اے ی)کے چیئرمین ارشد خورشید نے کہا ہے کہ یہ نیا نظام ملک میں درآمدی کلیئرنس کے عمل کو تیز، شفاف اور موثر بنانے میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔

یہ بات انہوں نے کسٹمز اکیڈمی آف پاکستان میں منعقدہ ایک آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔سیشن میں سینئر کسٹمز افسران، پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو)کے نمائندگان اور بڑی تعداد میں کسٹمز ایجنٹس نے شرکت کی۔ارشد خورشید کا کہنا تھا کہ نئے نظام کے تحت درآمد کنندگان جہاز کی آمد سے قبل ہی گڈز ڈیکلریشن فائل کر سکیں گے جبکہ کسٹمز ڈیوٹی، ٹیکسز اور حتی کہ صوبائی سیس کی ادائیگی بعد میں ممکن ہوگی۔

(جاری ہے)

اس سہولت سے نہ صرف کارگو کی بندرگاہوں پر قیام کا دورانیہ کم ہوگا بلکہ تاجروں کو کیش فلو کے دبا سے بھی نمایاں ریلیف ملے گا۔چیف کلکٹر کسٹمز(اپریزمینٹ)ساتھ واجد علی نے آگاہی سیشن سے میں جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تاجروں اور کسٹمز ایجنٹس پر زور دیا کہ وہ پری ارائیول اور پوسٹ پیمنٹ جی ڈی فائلنگ کی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ تیز رفتار کلیئرنس کو یقینی بنایا جا سکے۔

پاکستان سنگل ونڈو کے ڈائریکٹر خرم اعجاز نے نظام کے عملی خدوخال سے آگاہ کیا جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ریفارمز اینڈ آٹومیشن غلام نبی کمبو نے آٹومیشن پر مبنی اصلاحات کے فوائد پر روشنی ڈالی۔ ڈپٹی کلکٹر ریفارمز اینڈ آٹومیشن عبیر جاوید نے شرکا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے طریقہ کار کی تفصیل بیان کی۔اے پی سی اے اے کے وائس چیئرمین قمر الاسلام نے اصلاحاتی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسوسی ایشن کلیئرنس میں تاخیر کم کرنے اور تجارت کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

پاکستان سنگل ونڈو کے حکام سلمان چوہدری اور ارشد حسین نے تکنیکی پریزنٹیشنز کے ذریعے جی ڈی فائلنگ کے مرحلہ وار طریقہ کار کی وضاحت کی اور تاجروں و کسٹمز ایجنٹس کو درپیش عملی مسائل کے حل پیش کیے۔سیشن کے اختتام پر ارشد خورشید نے کہا کہ یہ نیا نظام نہ صرف درآمدی کلیئرنس کو ہموار بنائے گا بلکہ کسٹمز حکام اور تاجر برادری کے درمیان اعتماد اور باہمی رابطے کو بھی مضبوط کرے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اے پی سی اے اے ملک بھر میں اس سہولت کے فروغ اور آگاہی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔