فیصل آباد ڈویژن میں کپاس کی اگیتی فصل کیلئے 95 ہزار ایکڑ کا ہدف مقرر،محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف نے فوکسڈ کمپین شروع کردی

منگل 10 فروری 2026 22:44

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 فروری2026ء) فیصل آباد ڈویژن میں کپاس کی اگیتی فصل کی کاشت کو فروغ دینے اور ملکی زرعی ضروریات پوری کرنے کیلئے کاشتکاروں کو مجموعی طور پر95ہزار ایکڑ پر کاشت کا ہدف تفویض کر دیا گیا ہے۔ یہ بات ڈائریکٹر زراعت (توسیع) فیصل آباد ڈویژن چوہدری خالد محمود نے ’’اے پی پی ‘‘سے خصوصی گفتگو کے دوران بتائی۔

انہوں نے کہا کہ کپاس کی اگیتی کاشت کا یہ ہدف یونین کونسل، تحصیل اور مرکز کی سطح پر باقاعدہ طور پر تقسیم کر دیا گیا ہے تاکہ ہر سطح پر مؤثر نگرانی اور عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے، مقررہ ہدف کے حصول کیلئے محکمہ زراعت توسیع کے متعلقہ افسران اور فیلڈسٹاف کو خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور کارکردگی کی بنیاد پر ان کی مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

ڈائریکٹر زراعت توسیع نے بتایا کہ ہدف کے حصول کیلئے محکمہ زراعت کی جانب سے فوکسڈ کمپین شروع کر دی گئی ہے جس کے تحت کپاس کاشت کرنے والے پرانے اور تجربہ کار کاشتکاروں کے ساتھ کارنر میٹنگز کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان ملاقاتوں میں کاشتکاروں کو کپاس کی اگیتی کاشت کے فوائد، جدید زرعی طریقوں اور بہتر پیداوار کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہم کے پہلے مرحلے میں کاشتکاروں کو منظور شدہ اور معیاری بیج اور کھاد کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ فصل کا آغاز مضبوط بنیادوں پر ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیلڈسٹاف کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کاشتکاروں کو غیر معیاری اور غیر منظور شدہ بیج کے نقصانات سے بھی آگاہ کریں تاکہ مستقبل میں فصل کو بیماریوں اور کم پیداوار جیسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

چوہدری خالد محمود نے کہا کہ اس کے بعد کاشتکاروں کو قائل کیا جائے گا کہ وہ تیلدار اجناس کی کاشت سے خالی ہونے والے رقبے پر کپاس کی کاشت کو یقینی بنائیں اور زیادہ سے زیادہ رقبے پر کپاس کاشت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملکی ضروریات کو مقامی سطح پر پیدا ہونے والی کپاس سے پورا کرنا ہے تاکہ قیمتی زرمبادلہ کی بچت کے ساتھ ساتھ کسانوں کی آمدن میں بھی اضافہ ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کپاس پاکستان کی اہم نقد آور فصل ہے اور اس کی بہتر پیداوار نہ صرف کسانوں بلکہ ملکی معیشت کیلئے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کاشتکار محکمہ زراعت توسیع کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر مکمل عملدرآمد کریں۔ کسان بروقت کاشت، سفارش کردہ بیج اور متوازن کھاد کے استعمال کو یقینی بنائیں اور غیر منظور شدہ بیج کی کاشت سے مکمل گریز کریں۔ڈائریکٹر زراعت توسیع نے امید ظاہر کی کہ محکمہ زراعت، فیلڈسٹاف اور کاشتکاروں کی مشترکہ کاوشوں سے حکومت کی جانب سے تجویز کردہ کپاس کی اگیتی کاشت کا ہدف ہر صورت حاصل کیا جائے گا جس سے زرعی شعبہ مستحکم اور ملکی معیشت کو تقویت ملے گی۔