سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ کی جانب سے کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ میں دیرینہ اصلاحات پر زور

منگل 7 اپریل 2026 23:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 اپریل2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ کا اجلاس اسلام آباد میں سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان، سعدیہ عباسی، عطا الرحمٰن اور محمد عبدالقادر نے شرکت کی، جبکہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔

وفاقی وزیر برائے تجارت، سیکرٹری کابینہ ڈویژن، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارتِ تجارت کے سینئر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ کا تنظیمی ڈھانچہ دیگر وزارتوں کی طرح اہرامی (پیرامیڈ) طرز پر مبنی ہے اور 1994 کے قواعد کے تحت کام کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے واضح کیا کہ گریڈ 22 کی سطح پر وزارتِ تجارت میں سیکرٹری کا عہدہ مخصوص نہیں ہے اور دیگر وزارتوں یا گروپس کے افسران بھی اس عہدے پر تعینات ہو سکتے ہیں۔

اجلاس کے دوران کمیٹی نے وزارتِ تجارت میں گریڈ 17 سے 21 تک کے سٹاف کے تناسب پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ دیگر کیڈرز کے برعکس، جہاں افسران اپنی متعلقہ وزارتوں میں تعینات ہوتے ہیں، وزارتِ تجارت میں بڑی تعداد میں اسامیاں دیگر وزارتوں اور محکموں کے افسران کے پاس ہیں، جس سے کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ کے افسران کے جائز مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔

کمیٹی کے مطابق یہ عمل وزارت کی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کو متاثر کرتا ہے اور پیشہ ورانہ عملے کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتا ہے۔کمیٹی نے اس امر کا بھی نوٹس لیا کہ وزیرِ اعظم نے حال ہی میں پاکستان کی برآمدات کو 25 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، تاہم وزارتِ تجارت میں انسانی وسائل کی اکثریت ایسے افسران پر مشتمل ہے جو کامرس کیڈرز سے تعلق نہیں رکھتے۔

کمیٹی کے مطابق اس ہدف کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ کے ماہر اور متعلقہ تجربہ رکھنے والے افسران کو کلیدی کردار دیا جائے۔ غیر متعلقہ شعبوں جیسے کسٹمز، آئی آر ایس/ایف بی آر کے افسران کی اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کو پالیسی سازی کے حوالے سے کم مؤثر قرار دیا گیا۔وفاقی وزیر برائے تجارت نے کمیٹی کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اس معاملے کو نہایت اہم قرار دیا اور وزارت کی بنیاد مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ کے افسران نے اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ وزارتِ تجارت میں افسران کی تعیناتی ڈیپوٹیشن پر ہوتی ہے اور یہ خودکار نہیں۔ سیکرٹری، ایڈیشنل سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری اور سیکشن آفیسر کے عہدے باقاعدہ کیڈرائزڈ نہیں ہیں، جبکہ گریڈ 22 میں کوئی ایسا مستقل عہدہ موجود نہیں جس پر کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ کا افسر بطور سیکرٹری تعینات ہو سکے۔

اسی طرح بیرونِ ملک مشنز میں تعینات ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفیسرز (TIOs) میں سے اوسطاً 50 فیصد کا تعلق کامرس کیڈر سے ہوتا ہے جبکہ باقی دیگر سروسز یا نجی شعبے سے لیے جاتے ہیں، جبکہ دیگر گروپس جیسے انفارمیشن گروپ میں بیرونِ ملک تعیناتیاں مکمل طور پر اپنے ہی کیڈر سے کی جاتی ہیں۔کمیٹی نے 1994 کے قواعد کا جامع جائزہ لینے کی سفارش کی تاکہ انہیں موجودہ تجارتی تقاضوں اور برآمدی اہداف کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیرونِ ملک تعیناتیاں ترجیحی بنیادوں پر کامرس گروپ کے افسران کو دی جائیں تاکہ پالیسی سازی میں تسلسل اور مہارت کو فروغ مل سکے۔