چیئرپرسن ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی زیر صدارت سپیشل کمیٹی برائے جینڈر مین سٹریمنگ کا اجلاس

منگل 7 اپریل 2026 20:47

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 اپریل2026ء) سپیشل کمیٹی برائے جینڈر مین سٹریمنگ کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے کانسٹی ٹیوشن روم میں منعقد ہواجس کی صدارت چیئرپرسن رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کی۔اجلاس میں کمیٹی کو ملک میں رائج غربت کے تعین کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں خاص طور پر صنفی بنیادوں پر تفریق شدہ ڈیٹا (Gender-disaggregated data) کے استعمال پر زور دیا گیا تاکہ شواہد پر مبنی اور جامع پالیسی سازی کو فروغ دیا جا سکے۔

بریفنگ میں پلاننگ کمیشن کے تحت غربت کے تخمینے کے ارتقاء، لاگتِ بنیادی ضروریات (Cost of Basic Needs - CBN) طریقہ کار، اور مالی سال 2024-25 کے لئے غربت کے تخمینوں کا طریقہ کار شامل تھا۔ اس دوران اہم اشاریے، ڈیٹا کے ذرائع، تجزیاتی طریقہ کار، ادارہ جاتی فریم ورک، حالیہ رجحانات، قومی سطح پر غربت کی شرح اور صوبائی و علاقائی اعداد و شمار سے بھی آگاہ کیا گیا۔

(جاری ہے)

کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2018-19 سے 2024-25 کے دوران قومی اور صوبائی سطح پر غربت کی لکیر میں مجموعی طور پر 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ غربت کے ہیڈ کاؤنٹ کے مطابق یہ تعداد 3,757.85 سے بڑھ کر 8,483.8 تک پہنچ گئی ہے جو نمایاں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔چیئرپرسن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ان اعداد و شمار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال نہایت تشویشناک اور افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر ملک کا ہر دوسرا گھرانہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے جو ایک الارمنگ صورتحال ہے۔ انہوں نے متعلقہ وزارت سے مطالبہ کیا کہ غربت میں اس تیزی سے اضافے کی جامع وضاحت فراہم کی جائے اور اس کے خاتمے کے لئے عملی اور مؤثر تجاویز پیش کی جائیں۔کمیٹی نے اس بات کا بھی مشاہدہ کیا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی نے خدمات کی فراہمی کے نظام کو متاثر کیا ہے جس سے غربت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اراکین نے کہا کہ وسائل اور آبادی کی ضروریات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق سماجی و معاشی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ کمیٹی نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی اور رویے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بہتر ہم آہنگی، کارکردگی اور بروقت ردعمل کی ضرورت پر زور دیا۔اراکین نے عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور بین الاقوامی حالات کے ممکنہ اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ بروقت اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ غربت میں مزید اضافے کو روکا جا سکے۔

اس موقع پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات، خصوصاً روزگار، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی اجاگر کیا گیا، جو کمزور طبقات کو زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ کمیٹی نے موسمیاتی لحاظ سے مضبوط (climate-resilient) پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا۔کمیٹی نے آبادی میں تیزی سے اضافے کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے مؤثر آبادی کنٹرول اور آگاہی پر مبنی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

اراکین نے کہا کہ واضح اور معیاری پیمانوں کے بغیر غربت کے خاتمے کی کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہو سکتیں، خصوصاً دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں۔ اس لیے ایک یکساں، شفاف اور علاقائی حساسیت پر مبنی غربت کے تعین کا نظام اپنانا ضروری ہے۔اجلاس میں وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ کے ایڈیشنل سیکرٹری اور پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ (PPAF) کے ڈائریکٹر جنرل نے ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی، جس میں خواتین مستفیدین تک رسائی پر خصوصی توجہ دی گئی۔

بریفنگ میں ادارے کے وژن، دائرہ کار، ادارہ جاتی ساخت اور غربت سے نکلنے (poverty graduation) کے پروگرامز پر روشنی ڈالی گئی، جن کا مقصد کمزور طبقات خصوصاً خواتین کو خود کفالت کی طرف لے جانا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ادارے کے اقدامات قومی ترقیاتی ایجنڈے سے ہم آہنگ ہیں، جن میں خواتین کو بااختیار بنانا، مالی شمولیت، سماجی تحفظ، روزگار کے مواقع، مہارتوں کی ترقی اور مائیکرو فنانس شامل ہیں۔

بحث کے دوران اراکین نے PPAF کی کارکردگی، شفافیت اور پائیداری پر سوالات اٹھائے اور غربت میں کمی اور خواتین کے بااختیار بنانے کے حوالے سے نتائج کی وضاحت طلب کی۔ کمیٹی نے مستفید ہونے والوں کی تعداد، غربت سے نکلنے والوں کے اعداد و شمار، جائزہ لینے کے معیار، اور ضلع وار و صنفی بنیادوں پر تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ فنڈز کی تقسیم، انتظامی اخراجات، آڈٹ نظام، صوبائی تقسیم، موسمیاتی متاثرہ علاقوں کی شمولیت اور دیگر اداروں کے ساتھ ہم آہنگی سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے اس ایجنڈا آئٹم پر مزید غور مؤخر کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں PPAF کی جانب سے جامع بریفنگ دی جائے گی۔ کمیٹی نے ادارے کے منصوبوں اور دفاتر کا دورہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا تاکہ عملی طور پر پروگرامز کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔کمیٹی نے پاکستان بیت المال پر بریفنگ کو بھی آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا۔

اجلاس میں ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کی گئی جس کی کنوینر مس شائستہ پرویز، رکن قومی اسمبلی ہوں گی۔ دیگر اراکین میں مس شاہدہ رحمٰنی، مس شاہدہ بیگم، مس منیزہ حسن اور سینیٹر خالدہ عتیب شامل ہیں۔ ذیلی کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ وہ اٹھائے گئے نکات کا جائزہ لے، مجوزہ دورہ کرے اور اپنی سفارشات مرکزی کمیٹی کو پیش کرے۔چیئرپرسن نے کمیٹی کے گزشتہ اجلاسوں کی کارروائی کی منظوری بھی دی۔اجلاس میں سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر خالدہ عطیب، شائستہ پرویز، شاہدہ رحمانی اور منزہ حسن سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک، متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام اور دیگر افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔