خیبرپختونخوااسمبلی میں مردان میڈیکل کمپلیکس میں ہفتہ کے روز اوپی ڈی سروس شروع کرنے اور التواء کاشکارمنچورڈیم منصوبہ کا ایشو اٹھایاگیا

پیر 20 اپریل 2026 20:03

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 اپریل2026ء) خیبرپختونخوااسمبلی میں مردان میڈیکل کمپلیکس میں ہفتہ کے روز اوپی ڈی سروس شروع کرنے اور التواء کاشکارمنچورڈیم منصوبہ کا ایشو اٹھایاگیاپیر کے روزاسمبلی اجلاس کے دوران اے این پی رکن شاہدہ وحید نے توجہ دلاؤنوٹس پیش کرتے ہوئے کہاکہ مردان میڈیکل کمپلیکس میں صبح کے وقت اوپی ڈی مکمل طور پر بندکردی گئی ہے جبکہ شام کے وقت صرف فیس کیساتھ محدود سروس فراہم کی جاتی ہے جس کی وجہ سے غریب مریضوں کوشدیدمشکلات کاسامناہے۔

اپیل کی جاتی ہے کہ ہسپتال میں ہفتہ کے روز صبح کے وقت اوپی ڈی کوفی الفور دوبارہ کھولاجائے تاکہ نادار اور غریب عوام کو بروقت مفت علاج کی سہولت میسرہو۔وزیرصحت خلیق الرحمن نے جواب دیاکہ پراونشل پالیسی بورڈکے فیصلے کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر پیرتاجمعہ صبح آٹھ سے چاربجے تک اوپی ڈی ہوتی ہے چاربجے تارات گئے تک آئی بی پی میں سروس جاری رہتی ہے چاربجے تک کرنے کامقصدڈاکٹروں کو سہولیات فراہم کرناہے اس دوران ایمرجنسی سہولت موجود رہتی ہے بہرکیف محرک رکن کی درخواست پالیسی بورڈبھیج دینگے دریں اثناء،ن لیگ رکن ثوبیہ شاہد نے توجہ دلاؤنوٹس پیش کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبہ میں چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کیلئے تقریبااسی فیصدمالی معاونت فراہم کی جارہی ہے اوراس مقصد کیلئے وفاق کی طرف سے باقاعدہ بجٹ بھی مختص کیاگیاہے تاکہ صوبے میں آبی ذخائرمیں اضافہ،زراعت کو فروغ اور مقامی آباد کو فائدہ پہنچے لیکن بہت سے ڈیمزالتواکاشکار ہیں کیونکہ کچھ منصوبوں پر عدالت کی جانب سے اسٹے آرڈر جاری ہوئے ہیں منچورڈیم کے منصوبے میں سیکشن فورکے تحت زمین کی ادائیگی کیلئے تقریباایک ارب بیس کروڑروپے ابھی تک فراہم نہیں کئے گئے جبکہ نہرکیلئے ادائیگی کردی گئی ہے جس پر سیاسی بنیادوں پراسٹے آرڈربھی لیاگیاہے جس کی وجہ سے مقامی عوام کو شدید مشکلات کاسامناہے مزیدیہ کہ اس منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریبادوارب روپے تھی جوتاخیر اوررکاوٹوں کی وجہ سے بڑھ کر تقریباچھ ارب روپے تک پہنچ چکی ہے اس لاگت میں اضافہ کے ذمہ داروں کا تعین کیاجائے۔

(جاری ہے)

وزیرآبپاشی ریاض خان نے جواب دیاکہ صوبائی حکومت 62ڈیمزمکمل کرچکی ہے سواتین لاکھ ایکڑاراضی پرکاشتکاری ہورہی ہے جس سے لوگوں کی معاشی حالت بدل رہی ہے،وفاقی حکومت نے رجیم چینج کے بعد ایک روپیہ تک نہیں دیاہے،تین ڈیمزہم نے پروپوزکئے تھے جسے پی ایس ڈی پی سے فنڈکی عدم دستیابی پرواپس کئے گئے ہنگواورہری پورڈیمزکوصوبائی حکومت نے محدودوسائل میں رہنے کے باوجود اے ڈی پی میں شامل کیاہے،منچورڈیم کیلئے55فیصدشیئروفاق اور45فیصدصوبائی حکومت کے ہیں 2016ء میں لینڈایکوزیشن ہوگیا اراضی کی قیمت کاکا1130ملین کاتخمینہ لگایاگیاپیسے ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے اکاؤنٹس چلے بھی گئے دوسری طرف سے اراضی مالکان نے ریٹ بڑھانے کیلئے رقوم لینے سے انکار کرتے ہوئے عدالت چلے گئے ابھی سپریم کورٹ میں کیس چل رہاہے جونہی فیصلہ آئے گا محکمہ منصوبے پرکام شروع کردے گاوضاحت کرتاچلوں کہ ڈیپارٹمنٹ نے کوئی اسٹے آرڈرنہیں لیاہوا۔

رائے شماری کے بعد محرک رکن کی معاملہ توجہ دلاؤنوٹس اسٹینڈنگ کمیٹی بھیجنے کی استدعامستردکردی گئی۔