محکمہ زراعت پنجاب کا کپاس کے ضرررساں کیڑوں کے خاتمہ کے لئے حکمت عملی جاری،ترجمان

بدھ 29 اپریل 2026 13:47

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اپریل2026ء) ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کپاس کے کاشتکار بوائی سے قبل زراعت توسیع یا پیسٹ وارننگ کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے بیج کو زہر آلود کر لیں۔کپاس کی کاشت کیلئے منظور شدہ اقسام کا صحت مندبیج استعمال کریں۔ اگیتی کپاس پر گلائی فوسیٹ کا سپرے کاشت کے25 دن کے اند ر لازما مکمل کر لیں،گرمی کی شدت زیادہ ہونے کے باعث گلائی فوسیٹ کا بے دریغ استعمال پھولوں کے گرنے کا باعث بنتا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ کاشتکار اگیتی فصل کی ہفتے میں دوبار پیسٹ سکاٹنگ لازما کریں۔ اس کے علاوہ متبادل فصلات جیسے بینگن،کھیرا،کدو، حلوہ کدو، ٹماٹر، مرچ، بھنڈی اور مونگ وغیرہ پر باقاعدگی سے پیسٹ سکاٹنگ کریں تاکہ ان فصلوں پر رس چوسنے والے کیڑوں کا تدارک یقینی بنایا جا سکے۔

(جاری ہے)

کپاس کی فصل پر سفید مکھی کے حملے سے بچائو کیلئے 15 تا20 پیلے چپکنے والے کارڈز فی ایکڑ لگائیں اور15 دن کے وقفے سے یہ عمل دوبارہ دہراہیں۔

سفید مکھی کے خلاف زہر پاشی نقصان کی معاشی حد 5 بالغ یا بچہ یا دونوں ملا کر 5 عد د فی پتا ہو تو محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی ماہرین کے مشورہ سے کریں۔ اگر فصل پر تھرپس کا حملہ ہوتو چھوٹے پودوں کو پانی لگائیں یا پانی کا سپرے کریں، بارش کے بعد کپاس پر سبز تیلے کا حملہ بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔اس ضمن میں اگر نقصان کی معاشی حد1 بالغ یا بچہ فی پتا ہو تو مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے سپرے کریں۔