190ملین پاؤنڈ کیس،عمران خان کے وکیل کا قید تنہائی ، صحت سے متعلق سنگین خدشات کا اظہار، عدالت کا اپیلوں پر جلد سماعت کا عندیہ

ملاقات کے دوران کچھ تشویشناک امور سامنے آئے، جن میں عمران خان کی بینائی متاثر ہونے کا معاملہ بھی شامل ہے،بیرسٹرسلمان صفدر اسلام آبادہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ کارروائی کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کر دی

جمعرات 30 اپریل 2026 17:17

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 اپریل2026ء) اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں اور سزا معطلی درخواستوں پر سماعت کے دوران وکیل نے قید تنہائی اور صحت سے متعلق سنگین خدشات اٹھا دیئے جبکہ عدالت نے اپیلوں پر جلد سماعت کا عندیہ دے دیاہے۔جمعرات کواسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بنچ نے 190ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں اور سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کی۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر جبکہ نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر جاوید اشرف اور رافع مقصود عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 8اپریل کو عدالتی حکم پر ان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تاہم اس دوران بشریٰ بی بی سے ملاقات نہیں کرائی گئی، حالانکہ یہ عدالتی احکامات کے برعکس تھا، ان کے مطابق بشریٰ بی بی سے ان کی آخری ملاقات 20دسمبر 2025کو ہوئی تھی۔

(جاری ہے)

وکیل نے بتایا کہ ملاقات کے دوران کچھ تشویشناک امور سامنے آئے، جن میں عمران خان کی بینائی متاثر ہونے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ان کے مطابق بانی نے بتایا کہ ان کی 85فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے اور ایک آنکھ سے دیکھنے میں بھی دشواری ہے، جبکہ ڈاکٹروں نے بہتری کے امکانات کم ظاہر کئے ہیں۔سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو 22گھنٹے جبکہ بشریٰ بی بی کو 24گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جو ان کے بقول غیر ضروری اور انسانی حقوق کے منافی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ عدالتی فیصلے میں قید تنہائی کی کوئی سزا شامل نہیں، تو پھر جیل حکام اس کا اطلاق کیوں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں کی آنکھوں کی خرابی باعث تشویش ہے اور سوال کیا کہ آیا اڈیالہ جیل میں کوئی ایسا مسئلہ موجود ہے جو قیدیوں کی بینائی کو متاثر کر رہا ہے۔ وکیل کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو حال ہی میں علاج کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا کیونکہ جیل میں مناسب طبی سہولتیں دستیاب نہیں۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ آئی جی جیل خانہ جات، جیل سپرنٹنڈنٹ اور متعلقہ ڈاکٹرز کو طلب کر کے صورتحال واضح کی جائے اور قید تنہائی کے معاملے کا فوری حل نکالا جائے۔انہوں نے نیلسن منڈیلا رولز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے تک قید تنہائی کو تشدد تصور کیا جاتا ہے۔دوسری جانب چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ اپیلوں پر دلائل کیوں نہیں دیئے جا رہے۔

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ عدالت اپیل سننے کیلئے تیار ہے اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے جلد فیصلہ کر سکتی ہے۔بیرسٹر سلمان صفدر نے موقف اختیار کیاکہ ان کے موکل نے انہیں پہلے سزا معطلی کی درخواستوں پر دلائل دینے کی ہدایت کی ہے جبکہ اپیلوں پر دلائل کیلئے ممکنہ طور پر دیگر وکیل پیش ہوں گے، وہ مکمل فائل کا جائزہ لینے کے بعد ہی موثر دلائل دے سکیں گے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ کارروائی کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کر دی۔