گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد میں "ماحولیاتی اور صحت پر فضائی آلودگی کے اثرات کی ماڈلنگ" کے موضوع پر ورکشاپ

منگل 5 مئی 2026 14:38

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2026ء) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد میں یونیورسٹی آف میرپور خاص کے اشتراک سے "ماحولیاتی اور صحت پر فضائی آلودگی کے اثرات کی ماڈلنگ" کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی ورکشاپ برائے فضائی آلودگی کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یونیورسٹی کی جانب سے طلبہ میں ماحولیاتی آگاہی کے فروغ کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ ماحولیاتی و موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ شدید گرمی کی لہر گزشتہ دس برسوں کے مقابلے میں زیادہ شدت اختیار کر گئی، جس کے نتیجے میں اموات بھی رپورٹ ہوئیں، لہٰذا ہر فرد کو اپنے علاقے کی سطح پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ میں کام کرنے والے افراد موسمیاتی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اس لیے ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ضروری ہے، جبکہ مشترکہ کوششوں سے ہی صورتحال میں بہتری ممکن ہے۔ کمشنر نے مزید کہا کہ جامعات کو چاہیے کہ وہ حکومتی اداروں کو مؤثر پالیسی سازی کے لیے تحقیق اور علمی رہنمائی فراہم کریں۔ ورکشاپ کا بنیادی مقصد سائنسی تحقیق کو عملی پالیسی سازی سے جوڑنا تھا۔

اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عظم علی خان نے کہا کہ جامعات کو تحقیق اور جدت کے ذریعے ماحولیاتی مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ سندھ موسمیاتی اثرات کے لحاظ سے حساس ترین خطوں میں شامل ہے۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد میمن نے کہا کہ سندھ میں فضائی آلودگی کی بگڑتی صورتحال ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ورکشاپ کے مختلف سیشنز میں شرکاکو فضائی آلودگی کی ماڈلنگ، AQI کی تشریح اور اخراج کے کنٹرول سے متعلق عملی تربیت فراہم کی گئی۔ ریسورس پرسنز ڈاکٹر وقار احمد، ڈاکٹر امیر المگیر اور ڈاکٹر عوریہ جابین نے اپنے ماہرانہ خیالات اور عالمی تجربات سے شرکا کو آگاہ کیا۔

متعلقہ عنوان :