کراپ مینجمنٹ اور زرعی طریقہ کار میں تبدیلیوں سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن ہے،ڈاکٹرخادم حسین

بدھ 6 مئی 2026 11:28

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 مئی2026ء) پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر خادم حسین نے کہا ہے کہ کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ انہوں نے بدھ کو سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( سی سی آر آئی) ملتان کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وسائل کے اندر رہتے ہوئے کراپ مینجمنٹ اور زرعی طریقہ کار میں معمولی مگر موثر تبدیلیاں لا کر کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زمین کا باقاعدہ تجزیہ کروا کر اس کی رپورٹ کے مطابق کھادوں کا متوازن استعمال نہ صرف پیداوار بڑھاتا ہے بلکہ فصل کی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔انہوں نے ڈسکی کاٹن بگ کے بروقت اور موثر کنٹرول کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے نہ صرف پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ روئی کے معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،اسی لئے اس کے سدباب بارے بروقت اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ زمین کی بہتر مینجمنٹ، فی ایکڑ پودوں کی مطلوبہ تعداد برقرار رکھنے اور ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن کو اپنانے سے بھی کپاس کی مجموعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے سی سی آر آئی ملتان کے تجرباتی کھیتوں کا دورہ کیا، فصل کی مجموعی حالت کو تسلی بخش اور صحت مند قرار دیا اور زرعی سائنسدانوں کی پیشہ ورانہ کاوشوں کو سراہا۔بعد ازاں انہوں نے ڈائریکٹر سی سی آر آئی ملتان صباحت سے ملاقات کی، جس میں ادارے کے انتظامی و دفتری امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے درپیش مسائل کو غور سے سنا اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔