مولانا محمد ادریس کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف نوشہرہ میں جے یو آئی کا احتجاج، قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

بدھ 6 مئی 2026 20:10

نوشہرہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 مئی2026ء) شیخ الحدیث اور جید عالم دین مولانا محمد ادریس کی المناک ٹارگٹ کلنگ میں شہادت کے خلاف جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)نوشہرہ کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں علما اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرے کی قیادت جے یو آئی نوشہرہ کے ضلعی امیر مولانا تاج قادر، ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا محب اللہ شاہ، قاری عمر علی حقانی، مفتی امتیاز علی حقانی اور الحاج پرویز خٹک سمیت دیگر رہنماں نے کی۔

مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مولانا محمد ادریس کے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچانے کے مطالبات درج تھے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ ایک اسلامی ملک میں دینی مدرسے کا استاد بھی محفوظ نہیں رہا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ علما کرام کو گالیاں دی جا رہی ہیں، ان کی توہین کی جا رہی ہے اور انہیں سرعام نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علما کرام قال اللہ، قال الرسول کے داعی ہیں اور اگر اس پیغام سے کسی کو اختلاف ہے تو بھی وہ اپنے اسلاف و اکابرین کی پیروی کرتے ہوئے یہ پیغام عام کرتے رہیں گے۔ مقررین نے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے علما کرام کو مکمل تحفظ فراہم کریں۔مقررین کا کہنا تھا کہ وہ علما حق کے پیروکار ہیں اور شہادتوں سے خوفزدہ نہیں، تاہم علما دیوبند کے پیروکاروں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے پر تشویش ہے اور اس کے پس پردہ مقاصد کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر علما کرام اور مدارس کے تحفظ کے لیے مزاحمت کی گئی تو اس کے اثرات ملک کے امن و امان پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے حکومت، ریاستی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ مولانا محمد ادریس کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔