اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گی: سینیٹر پرویز رشید

ایک قانون بنایا جائے کہ سب کا علاج سرکاری ہسپتال سے ہو گا، چاہے کوئی سینیٹر ہو، کوئی جج ہو، کوئی بیوروکریٹ ہو، گفتگو

جمعہ 28 اگست 2026 15:10

اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گی: سینیٹر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی لگائی جائے، اس پابندی سے ہی سرکاری ہسپتالوں میں بہتری آئے گی۔سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ پمز جیسے المیے روز پاکستان کی تقدیر بن چکے ہیں، ہم ایک نئے المیے کا استقبال کرتے ہیں ، یہ سب ختم نہیں ہو گا، انکوائری بھی ہو اور سزا بھی ہو ، مگر اس سے پہلے بھی انکوائریاں ہوئیں، سزائیں بھی ہوئیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک قانون بنایا جائے کہ سب کا علاج سرکاری ہسپتال سے ہو گا، چاہے کوئی سینیٹر ہو، کوئی جج ہو، کوئی بیوروکریٹ ہو۔انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی ہونی چاہئے، اس پابندی کے بعد مہینوں میں سرکاری ہسپتالوں کا حال بہترین ہو گا، جو سرکاری ہسپتالوں سے علاج نہ کرائے وہ نوکری سے جائے۔پرویز رشید نے کہا کہ جو شخص سرکاری تنخواہ لے وہ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرے تو ٹرانسپورٹ بہتر ہو جائیگی، سی ایم ایچ کی آپ ہمیشہ تعریف سنیں گے کیونکہ فوج کے نچلے عملے سے اوپر افسر تک سب سی ایم ایچ سے علاج کراتے ہیں۔