وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ کا 52واں اجلاس، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

جمعہ 8 مئی 2026 19:04

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 مئی2026ء) کراچی: سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پالیسی بورڈ کا 52واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں انفراسٹرکچر، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور صنعتی ترقی سے متعلق اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں صوبائی وزرائ شرجیل میمن، ناصر حسین شاہ، جام خان شورو، اسماعیل راہو، ضیائ الحسن لنجار، معاون خصوصی قاسم نوید، ارکان سندھ اسمبلی غلام قادر چانڈیو اور قاسم سومرو، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں پبلک اور پرائیوٹ شراکت داری کے ذریعے سندھ کی سماجی و معاشی ترقی کو تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سندھ کے چار پی پی پی منصوبوں کو بارسلونا میں عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ یونیسیف فورم میں انہیں عالمی کیس اسٹڈیز کے طور پر منتخب کیا گیا۔

(جاری ہے)

٪مراد علی شاہ کے مطابق 21 ممالک کے 139 منصوبوں میں سندھ کے تمام چار منصوبے کامیاب قرار پائے، جن میں شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے، ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ اینڈ کالج، ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز اور جنگلات کے ذریعے کاربن اخراج میں کمی کے منصوبے شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ کا ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ اینڈ کالج منصوبہ ‘‘سب سے مؤثر منصوبوں’’ میں شامل کیا گیا، جبکہ 60 سے زائد ممالک کے 600 سے زیادہ مندوبین نے اس منصوبے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی پذیرائی سندھ کے مضبوط PPP فریم ورک اور پائیدار ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ پالیسیوں کا ثبوت ہے۔اجلاس میں این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک منصوبے پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

بتایا گیا کہ کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی کے اشتراک سے این ای ڈی ٹیک پارک تیار کیا جا رہا ہے اور اس کے کنسیشن معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں جبکہ ابتدائی کام جاری ہے۔اجلاس میں اسپیشل ٹیکنالوجی زون کی منظوری میں تاخیر پر متبادل منصوبہ جاتی ڈھانچے اور مالیاتی ماڈلز پر غور کیا گیا۔ پالیسی بورڈ نے وفاقی حکام سے رابطے جاری رکھنے اور منصوبے پر پیش رفت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

پی پی پی پالیسی بورڈ نے سندھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن (S I T E) منصوبے کے تصوراتی خاکے کی بھی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ نے ادارے کو خودمختار ڈگری جاری کرنے والا ادارہ قائم کیا ہے، جو اساتذہ کی تعلیم، تحقیق اور لیڈرشپ ڈویلپمنٹ کے لیے اہم قدم ثابت ہوگا۔اجلاس میں سندھ بھر میں جدید وہیکل فٹنس انسپیکشن سینٹرز قائم کرنے کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پی پی پی ماڈل کے تحت جدید گاڑی معائنہ مراکز، آن لائن اپائنٹمنٹ اور ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرایا جائے گا جبکہ معائنے کے نظام کو حکومتی ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ منصوبہ سڑکوں کی حفاظت، ماحولیاتی معیار اور کمرشل گاڑیوں کی کارکردگی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔اجلاس میں شاہراہ بھٹو کے توسیعی منصوبے اور کراچی پورٹ تا قیوم آباد کوریڈور منصوبے پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

بتایا گیا کہ کراچی پورٹ کو جام صادق انٹرچینج سے ملانے والا یہ بڑا ایلیویٹڈ کوریڈور 16.5 کلومیٹر طویل ہوگا، جس میں 10.4 کلومیٹر ایلیویٹڈ اسٹرکچر اور 6.1 کلومیٹر ایمبینکمنٹ سیکشنز شامل ہوں گے۔حکام کے مطابق منصوبے کے لیے بین الاقوامی مسابقتی بولی کا عمل کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے، جبکہ سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے EPADS سسٹم کے تحت الیکٹرانک بڈنگ کے ذریعے ٹھیکیدار کا انتخاب کیا گیا۔پی پی پی پالیسی بورڈ نے کامیاب کنسورشیم کی منظوری دیتے ہوئے عملدرآمد ادارے کو معاہدے اور مالیاتی امور حتمی بنانے کی اجازت دے دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ منصوبہ کراچی میں ٹریفک روانی اور بندرگاہ سے رابطہ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔