انمول پنکی کے نیٹ ورک میں لاہور کی 20 خواتین اور غیرملکی بھی شامل ہیں، کراچی پولیس چیف

پنکی کے موبائل سے 869 کانٹیکٹس ملے ہیں، جن میں سے 639 نمبرز کی لوکیشن ٹریس کرلی گئی، اب تک کی تفتیش میں 3 کروڑ روپے کی مالیاتی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں؛ ایڈیشنل آئی جی آزاد خان کی میڈیا بریفنگ

Sajid Ali ساجد علی جمعہ 15 مئی 2026 16:10

انمول پنکی کے نیٹ ورک میں لاہور کی 20 خواتین اور غیرملکی بھی شامل ہیں، ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2026ء) کراچی پولیس چیف ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے انکشاف کیا ہے کہ کوکین ڈیلر انمول پنکی کے نیٹ ورک میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کوکین ڈیلر انمول پنکی کے معاملے پر ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان سینٹرل پولیس آفس کراچی میں اہم پریس کانفرنس کی، اس موقع پر ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بہادر، ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹیگیشن عامر فاروقی، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ شیراز نذیر اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسر بھی موجود تھے۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے بتایا کہ کراچی پولیس اور حساس اداروں نے 12 مئی کو ایک مشترکہ انٹیلیجنس آپریشن کے دوران بدنام زمانہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا، ملزمہ کے قبضے سے ڈیڑھ کلو کوکین، 7 کلو خطرناک کیمیکل اور ایک 9 ایم ایم پستول برآمد ہوا، جس پر تھانہ گارڈن میں مقدمہ درج کر لیا گیا، ملزمہ کے موبائل فون سے حیران کن ڈیٹا حاصل ہوا۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا ہے کہ پنکی کے موبائل سے 869 کانٹیکٹس ملے ہیں، جن میں سے 639 نمبرز کی لوکیشن ٹریس کر لی گئی ہے، اب تک کی تفتیش میں 3 کروڑ روپے کی مالیاتی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں، جن کا ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے، ملزمہ نے سپلائی کے لیے 9 مخصوص رائیڈرز رکھے ہوئے تھے، جن میں سے 8 کا تعلق پنجاب سے ہے، جو کراچی و دیگر شہروں میں مال پہنچاتے تھے۔

کراچی پولیس چیف نے انکشاف کیا کہ انمول پنکی کے نیٹ ورک میں 20 خواتین شامل ہیں جو لاہور میں بیٹھ کر کام کر رہی ہیں، اس گروہ میں غیر ملکی افراد بھی شامل ہیں جو منشیات کی درآمد اور تیاری میں مدد فراہم کرتے تھے، پولیس نے نیٹ ورک کو دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے، 'اے کیٹیگری' میں وہ لوگ ہیں جنہیں نشے کی عادت پر لگایا گیا، دوسری کیٹیگری میں بڑے سپلائرز شامل ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے بتایا کہ ملزمہ کی مجموعی طور پر 9 مختلف مقدمات میں گرفتاری ظاہر کی گئی ہے، یہ نیٹ ورک انتہائی شاطرانہ طریقے سے چلایا جا رہا تھا، تاہم اب اس کے تمام مہروں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور جلد مزید بڑی گرفتاریاں متوقع ہیں، کیس کی سنگینی کے پیشِ نظر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ بھی تفتیش میں شامل ہو گیا ہے تاکہ دہشت گردی کے مالیاتی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے، فرائض میں غفلت برتنے پر 3 پولیس افسران کو معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف انکوائری جاری ہے۔