کانگو: ایبولا کے سیکڑوں مریض لیکن ویکسین دستیاب نہیں

یو این بدھ 20 مئی 2026 05:30

کانگو: ایبولا کے سیکڑوں مریض لیکن ویکسین دستیاب نہیں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 20 مئی 2026ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جسے روکنے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ اس بیماری کے خلاف کسی موثر ویکسین کی دستیابی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

جمہوریہ کانگو میں'ڈبلیو ایچ او' کی نمائندہ ڈاکٹر این اینشیا نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ اب تک اس مرض کے 500 سے زیادہ مشتبہ مریض سامنے آئے ہیں اور 130 اموات ہوئی ہیں جبکہ فی الوقت بیمار اور ہلاک ہونے والے 30 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

Tweet URL

'ڈبلیو ایچ او' مقامی حکام کے ساتھ مل کر وبا پر قابو پانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

مشرقی کانگو میں بیماری کی تشخیص کا سامان بھیجا جا رہا ہے جہاں اس وبا کا زور کہیں زیادہ ہے۔ مصدقہ مریضوں میں بنڈی بگیو قسم کے ایبولا وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے جس کے لیے فی الحال نہ کوئی ویکسین موجود ہے اور نہ ہی اس کا موثر علاج دریافت ہوا ہے۔

ڈاکٹر اینشیا نے بتایا ہے کہ اس وقت متاثرہ افراد کی تعداد اور وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں واضح معلومات نہیں ہیں۔

کانگو کے ہمسایہ ملک یوگنڈا میں بھی دو افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ 'ڈبلیو ایچ او'کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس اس وبا کو عالمگیر صحت عامہ کے لیے تشویش ناک ہنگامی صورتحال قرار دے چکے ہیں۔

'ڈبلیو ایچ او' کے اقدامات

تاحال یہ واضح نہیں ہوا کہ حالیہ وبا کہاں اور کیسے شروع ہوئی۔ ڈاکٹر اینشیا کا کہنا تھا کہ اندازوں کے مطابق، 5 مئی کو بونیا نامی علاقے میں ہلاک ہونے والے شخص سے یہ وائرس پھیلا اور دارالحکومت کنشاسا میں ہونے والے طبی معائنوں سے اندازہ ہوا کہ یہ بنڈی بگیو ایبولا وائرس ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک تکنیکی مشاورتی گروپ آج اپنے اجلاس میں 'ڈبلیو ایچ او' کے رکن ممالک کو اس مرض کے خلاف کوئی مناسب ویکسین تجویز کرے گا۔ اس حوالے سے 'ایرویبو' نامی ویکسین کا استعمال بھی زیرغور ہے جو اس وائرس کی زائرے قسم سے نمٹنے کے لیے تیار کی گئی تھی لیکن اس کی دستیابی میں دو ماہ لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگرچہ ویکسین متاثرہ آبادی کو اضافی تحفظ دے سکتی ہے لیکن وائرس پر قابو پانے کے لیے مقامی سطح پر آگاہی پھیلانے، غلط معلومات سے نمٹنے اور خاص طور پر وفات پا جانے والے لوگوں کی آخری رسومات کے دوران احتیاطی اقدامات پر عمل کروانے جیسے اقدامات ضروری ہیں۔

'ڈبلیو ایچ او'نے 40 سے زیادہ ماہرین کو کانگو میں تعینات کیا ہے اور طبی عملے کو اضافی سامان اور تشخیصی سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

پناہ گزینوں کے لیے خطرات

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہے کہ صوبہ ایتوری اور شمالی کیوو میں 20 لاکھ زیادہ پناہ گزین موجود ہیں جبکہ صحت کا نظام مسلح تنازع کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہے۔

ایتوری میں جنوبی سوڈان سے آنے والے تقریباً 11 ہزار پناہ گزینوں کو تحفظ کے لیے مدد کی ضرورت ہے جبکہ باغیوں کے زیرتسلط صوبہ شمالی کیوو کے دارالحکومت گوما میں روانڈا اور برونڈی کے دو ہزار سے زیادہ پناہ گزینوں کو حفظان صحت کا سامان درکار ہے۔

جمہوریہ کانگو میں ایبولا زائرے وائرس کی گزشتہ وبا دسمبر 2025 میں ختم ہوئی تھی۔ ڈاکٹر اینشیا نے کہا ہے کہ اگرچہ ویکسین دو ماہ میں دستیاب ہو سکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وبا بھی اتنے ہی وقت میں ختم ہو جائے گی۔ 2018 اور 2019 میں آنے والی بدترین ایبولا وبا کا خاتمہ دو سال میں ہوا تھا۔