Live Updates

ایران جنگ سے دنیا بھر میں روزگار کے مواقع متاثر ہونے کا خطرہ، رپورٹ

یو این بدھ 20 مئی 2026 05:30

ایران جنگ سے دنیا بھر میں روزگار کے مواقع متاثر ہونے کا خطرہ، رپورٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 20 مئی 2026ء) عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا بحران اب اسی خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں، نقل و حمل کے راستوں میں رکاوٹوں، تجارتی ترسیلی نظام پر دباؤ، سیاحت میں کمی اور نقل مکانی پر پابندیوں کے باعث دنیا بھر میں روزگار، کام کے حالات اور آمدنی کو متاثر کر رہا ہے۔

خطے کی موجودہ صورتحال پر 'آئی ایل او' کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا یہ بحران آئندہ عرصہ میں بھی محنت کی منڈیوں کو متاثر کرتا رہے گا۔

Tweet URL

اگر تیل کی قیمتیں 2026 کے آغاز کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد بڑھ جائیں تو اندازہ ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں کام کے مجموعی گھنٹے 0.5 فیصد اور 2027 میں 1.1 فیصد کم ہو جائیں گے۔

(جاری ہے)

یہ بالترتیب ایک کروڑ 40 لاکھ اور تین کروڑ 80 لاکھ عارضی ملازمتوں کے برابر کمی ہو گی۔

حقیقی اجرتوں میں بھی بالترتیب 1.1 فیصد اور 3 فیصد کمی متوقع ہے جو تقریباً 1.1 ٹریلین اور 3 ٹریلین ڈالر کے برابر ہے۔ ایسے حالت میں بے روزگاری بھی بڑھ جائے گی جس میں رواں سال 0.1 فیصد اور 2027 میں 0.5 فیصد اضافہ ہو گا۔

طویل المدتی معاشی دھچکا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اثرات کی شدت مختلف خطوں، شعبوں اور کارکنوں پر ایک جیسی نہیں ہو گی۔

عرب ممالک اور ایشیا و الکاہل خطے پر سب سے زیادہ دباؤ آئے گا کیونکہ ان کا انحصار خلیج سے توانائی کی فراہمی، کشیدگی سے متاثرہ تجارتی راستوں، تجارتی ترسیل کے نظام اور افرادی قوت کی نقل مکانی سے جڑا ہے۔

'آئی ایل او' کے چیف اکانومسٹ سنگ ہیون لی کے مطابق، یہ بحران عارضی نہیں بلکہ ایک سست رفتار مگر طویل المدتی معاشی دھچکا ہے جو بتدریج محنت کی منڈیوں کو بدل دے گا۔

عالمی معیشت کو لگنے والے دھچکے براہ راست انسانی مسائل میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور بالآخر کارکنوں اور کاروباروں تک پہنچ کر روزگار کے معیار، تحفظ اور استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔

عرب، ایشیائی اور الکاہل خطے پر دباؤ

عرب ممالک اس بحران سے براہ راست اور سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر صورتحال جلد بہتر ہو جائے تو کام کے گھنٹوں میں 1.3 فیصد کمی آئے گی، لیکن بحران طویل ہو جائے تو یہ کمی 3.7 فیصد اور شدید صورت میں 10.2 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جو کووڈ-19 وبا کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہے۔

خطے میں تقریباً 40 فیصد روزگار ایسے شعبوں میں ہے جو بحران سے بری طرح متاثر ہونے کے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں تعمیرات، صنعت، نقل و حمل، تجارت اور ہوٹلوں کا کاروبار نمایاں ہے جبکہ غیرملکی مزدوروں کو اس کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

ایشیا اور الکاہل خطے میں توانائی کی درآمدات پر انحصار اور بڑی تعداد میں محنت کشوں کی خلیجی ممالک میں موجودگی کے باعث کئی معیشتوں پر اس بحران واضح اثرات نظر آ رہے ہیں۔

بحران کے باعث خطے میں رواں سال کام کے گھنٹوں میں 0.7 فیصد اور 2027 میں 1.5 فیصد کمی کا خدشہ ہے جبکہ حقیقی آمدنی میں بالترتیب 1.5 فیصد اور 4.3 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ تقریباً 22 فیصد کارکن ایسے شعبوں سے وابستہ ہیں جو بحران سے بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔

ترسیلات زر اور روزگار میں کمی

رپورٹ کے مطابق، یہ بحران بیرون ملک سے آنے والی افرادی قوت اور ترسیلات زر پر بھی دباؤ بڑھا رہا ہے۔

خلیج تعاون کونسل(جی سی سی) کے ممالک کی طرف محنت کشوں کی روانگی تیزی سے کم ہوئی ہے جبکہ ان کی واپسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک کے لیے ترسیلات زر آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں لیکن اب ان میں کمی کے ابتدائی آثار نظر آنے لگے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک میں ان لوگوں کے روزگار اور ترسیلات دونوں متاثر ہوتے ہیں تو اس کے اثرات گھریلو کھپت، غربت اور محنت کشوں کے آبائی ممالک میں مقامی روزگار تک پھیل سکتے ہیں۔

موثر پالیسیوں کی ضرورت

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف ممالک نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پالیسیاں بنائی ہیں لیکن یہ ابھی تک غیر یکساں، منتشر اور مالی وسائل کی کمی کے باعث محدود ہیں۔ زیادہ تر اقدامات مختصر مدتی استحکام پر مرکوز ہیں جن میں توانائی پر امدادی قیمتوں کی فراہمی، نقد امداد، کاروباری معاونت اور تارک وطن مزدوروں سے متعلق انتظامی اقدامات شامل ہیں۔

'آئی ایل او' نے سفارش کی ہے کہ پالیسی سازی میں ایسی سوچ اپنائی جائے جس کے تحت روزگار اور آمدنی کو مرکزی اہمیت ملے تاکہ توانائی کا عارضی دھچکا طویل المدتی نقصان میں تبدیل نہ ہو۔ خاص طور پر غیر رسمی مزدوروں، غیرملکی کارکنوں، پناہ گزینوں اور چھوٹے کاروباروں تک مدد پہنچانا ضروری ہے۔

ادارے نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ بحران سے نمٹنے کے لیے روزگار اور سماجی مکالمے پر مبنی اور محنت کے بین الاقوامی معیارات کے مطابق اقدامات کیے جائیں تاکہ بحران کے دوران ملازمتوں، آمدنی اور کام کے حالات کو محفوظ رکھا جا سکے۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات