کچی بستیوں اور بے قاعدہ رہائشی کالونیوں کی اصلاح پر یو این رپورٹ

یو این بدھ 20 مئی 2026 05:30

کچی بستیوں اور بے قاعدہ رہائشی کالونیوں کی اصلاح پر یو این رپورٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 20 مئی 2026ء) تھائی لینڈ سے اردن اور برازیل سے جرمنی تک پائیدار اور ماحول دوست رہائش کے نئے طریقے سامنے آ رہے ہیں۔ غیر رسمی بستیوں میں رہنے لوگ جو کبھی بے دخلی کے خطرے سے دوچار تھے اب حکومتوں کی مدد سے اپنی آبادیوں کو دوبارہ تعمیر کرنے میں مصروف ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات محض انفرادی کامیابیاں نہیں۔

اگر درست حکمت عملی اختیار کی جائے تو رہائش کے عالمی بحران کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے جس سے دنیا بھر میں اربوں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

Tweet URL

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے ادارہ مساکن (یو این ہیبیٹٹ) نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں جاری 13ویں عالمی شہری فورم میں پیش کی ہے۔

(جاری ہے)

اس میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ رکن ممالک کو رہائشی بحران کے انسانی حقوق، ماحولیاتی استحکام اور مقامی آبادیوں کی شمولیت پر مبنی دیرپا حل میں مدد دے سکتا ہے۔

'شہروں کی عالمی رپورٹ 2026: عالمگیر رہائشی بحران اور عمل کی راہیں' کے عنوان سے جاری کردہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 3.4 ارب لوگ مناسب رہائش تک رسائی سے محروم ہیں اور 1.1 ارب سے زیادہ غیر رسمی بستیوں اور کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔

رپورٹ اس مسئلے کے حجم ہی کو نہیں دکھاتی بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ اسے حل کرنے کون سے طریقے کرگر ثابت ہو رہے ہیں۔

نیا شہری ایجنڈا

رپورٹ میں رہائش کو پائیدار ترقی کا مرکزی حصہ قرار دیا گیا ہے اور 'نئے شہری ایجنڈے' کے تحت اسے بھرپور سیاسی ترجیح دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس ایجنڈے کی منظوری 2016 میں دی گئی تھی جو شہری منصوبہ بندی کے عالمی معیار طے کرتا ہے اور شہرکاری سے متعلق پائیدار ترقی کے اہدافکی جانب پیش رفت میں مدد دیتا ہے۔

ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر این کلاڈیا روزباخ کے مطابق، رہائش کو محض مارکیٹ کی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔ مناسب رہائش پائیدار اور جامع ترقی کو تیز کرنے کے موثر ترین ذرائع میں سے ایک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کا کردار یہ ہے کہ:

  • حکومتوں کو رہائشی پالیسیاں بنانے میں مدد کی فراہمی
  • رہائش کا انسانی حق کے طور پر فروغ
  • بین الاقوامی تعاون کو مربوط کرنے کے اقدامات
  • موسمیاتی تبدیلی کے مطابق شہری منصوبہ بندی میں تعاون
  • مقامی لوگوں کی قیادت میں بہتر رہائش کے منصوبوں میں مدد

تھائی لینڈ: غیر رسمی بستیاں

رپورٹ میں تھائی لینڈ کا بان مینکونگ پروگرام ایک اہم مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

اس میں غیر رسمی بستیوں کے مکینوں کو وہاں سے ہٹانے کے بجائے بنیادی ڈھانچے کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں اور اجتماعی زمین کے معاہدوں میں مدد دی جاتی ہے تاکہ لوگ اپنی جگہ پر رہتے ہوئے اپنے گھروں کو بہتر بنا سکیں۔

اردن: مشمولہ شہری مقامات

اردن کے دارالحکومت عمان میں الحسین پناہ گزین کیمپ کے قریب ایک وسیع علاقے کو بحال کر کے ماحول دوست اور ہر عمر کے لوگوں کے لیے موزوں پارک میں تبدیل کیا گیا ہے۔

ایسے منصوبے پناہ گزینوں اور مقامی آبادی کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور سب کے لیے بہتر زندگی کی فراہمی میں مددگار ہوتے ہیں۔

برازیل: بے دخلی کے بجائے بہتری

برازیل میں فیویلا پروگراموں نے کچی آبادیوں کا خاتمہ کرنے کی سوچ کو بدل دیا ہے۔ ماضی میں ایسے اقدامات عموماً غربت میں اضافے اور سماجی اخراج کا باعث بنتے تھے۔ اب اس کی جگہ ان آبادیوں کو بہتر بنانے کا طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔

اس کے تحت مختلف شہروں میں بہتر رہائشی انتظامات، نکاسی آب کے منصوبے اور کیبل کار کی تعمیر جیسے اقدامات شامل ہیں۔

© Grace Barrett انتہائی کم لاگت اور ماحول دوست سازوسامان کے ساتھ بنایا ایک گھر۔

موسمیاتی بحران اور محفوظ رہائش

رپورٹ میں رہائش کو موسمیاتی بحران کے تناظر میں مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ عمارتیں دنیا بھر میں تقریباً 37 فیصد گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی ذمہ دار ہیں جبکہ موسمیاتی آفات 2040 تک 16 کروڑ 70 لاکھ گھروں کو تباہ کر سکتی ہیں۔ 2023 میں قدرتی آفات نے 280 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کیے جن میں سے زیادہ تر بیمہ شدہ نہیں تھے۔

'یو این ہبیٹٹ' کا کہنا ہے کہ موسمیاتی اعتبار سے محفوظ رہائش اب عالمی ترجیح ہونی چاہیے۔ رپورٹ میں کمبوڈیا، فلپائن اور تنزانیہ کے منصوبوں کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے جہاں مقامی لوگوں کی قیادت میں بہتر مکانات کی تعمیر کے علاوہ توانائی کے ماحول دوست ذرائع کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

اہم انسانی حق

اقوام متحدہ کے مطابق، رہائش صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اہم انسانی حق بھی ہے۔

لوگوں کو بے دخلی سے تحفظ دینے، زمین کی ملکیت کے متنوع طریقوں کو تسلیم کرنے اور حکومتی فیصلوں میں مقامی لوگوں کی شمولیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی رہائش کے حوالے سے سماجی تقسیم موجود ہے۔ یورپ میں تارکین وطن عموماً کم آمدنی والے علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ امریکہ میں 1990 سے 2014 کے درمیان کئی شہروں میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر گیا جو کووڈ-19 وبا کے دوران مزید نمایاں طور پر نظر آیا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ رہائشی بحران کا کوئی ایک عالمی حل موجود نہیں اور اس سمت میں حقیقی پیش رفت حکومتوں، عالمی اداروں اور عوامی شراکت سے ہی ممکن ہے۔ این کلاڈیا روسبیخ کا کہنا ہے کہ آج اٹھائے گئے اقدامات ہی طے کریں گے کہ رہائش استحکام اور ترقی کی بنیاد بنے گی یا مزید مسائل پیدا کرے گی۔